دعوت الامیر — Page 61
دعوة الامير ہے مگر اللہ یہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔اگر اسلام کے پھیلانے کے لئے تلوار کا جہاد جائز ہوتا تو کیا وہ لوگ جو اسلام لے آئے تھے مگر دل میں منافق تھے ، ان کا ذکر قرآن کریم ان الفاظ میں کرتا جو اوپر بیان ہوئے ہیں کیونکہ اس صورت میں تو یہ لوگ گو یا قرآنی تعلیم کا نتیجہ ہوتے کون امید کر سکتا ہے کہ تلوار کے ساتھ وہ مخلص لوگوں کی جماعت پیدا کرے گا۔پس یہ بات غلط ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے سے غیر مذاہب والوں کو اسلام میں داخل کرنے کا حکم دیتا ہے، اسلام تو سب سے پہلا مذہب ہے جو یہ کہتا ہے کہ مذہب کے متعلق آزادی ہونی چاہئے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ۔الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (البقرۃ: ۲۵۷) دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہدایت گمراہی سے ممتاز ہوگئی ہے۔پس ہر ایک شخص دلائل کے ساتھ حق کو قبول کرنے یار د کر نے کا حق رکھتا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَقَاتِلُوْا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرة: ۱۹۱) اور دین کی لڑائی ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔مگر یہ خیال رکھو کہ زیادتی نہ کر بیٹھو۔پس جب کہ اسلام صرف ان سے دینی جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے جو دین کے نام سے مسلمانوں سے جنگ کریں اور مسلمانوں کو جبراً اسلام سے پھیرنا چاہیں اور ان کے متعلق بھی یہ حکم دیتا ہے کہ زیادتی نہ کرو بلکہ اگر وہ باز آجا ئیں تو تم بھی اس قسم کی لڑائی کو چھوڑ دو۔تو پھر یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کا حکم ہے کہ غیر مذاہب والوں سے اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے جنگ کرو۔اللہ تعالیٰ تو مختلف مذہبوں کے مٹانے کے لئے نہیں بلکہ مختلف مذاہب کی حفاظت کے لئے جنگ کا حکم دیتا ہے حجیسا کہ فرماتا ہے أَذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ 0 بِالَّذِينَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقَّ إِلَّا أَنْ يَقْوَلُوْا رَبُّنَا اللَّهَ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ