دعوت الامیر — Page 42
دعوة الامير سے انہیں سو سال پہلے گزر چکا ہے، حالانکہ طے اور طوسی اور راز کی ایسے اسماء نہیں ہیں کہ جو مجازاً کسی اور معنی میں استعمال ہوں لیکن مریم ایک ایسا نام ہے جسے ایک خاص حالت کے اظہار کے لئے قرآن کریم میں استعمال کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَضَرَبَ اللهُ مثلاً لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ وَنَجْنِى مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجْنِى مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ * وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَيْهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ (التحريم: ١٢ - ١٣) یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کی مثال فرعون کی بیوی سے دیتا ہے جبکہ اس نے کہا کہ اے میرے رب میرے لیے جنت میں ایک گھر اپنے قرب میں بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کاموں سے بچالے اور مجھے ظالم قوم کے پنجے سے چھڑا لے اور یا مومنوں کی مثال مریم بنت عمران سے دیتا ہے جس نے اپنے سوراخوں کی حفاظت کی۔پھر ہم نے اس کے دل پر اپنا کلام نازل کیا اور اس نے ہماری باتوں اور ہماری کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبردار لوگوں میں سے ہوگئی ، پس جبکہ مومن کی ایک حالت کا نام اللہ تعالیٰ مریمی حالت رکھتا ہے اور ایسے مومن کو مریم کہتا ہے تو اگر کسی موعود کی نسبت اللہ تعالیٰ ابن مریم کے الفاظ استعمال کرتا ہے تو کیا اس کے یہی معنی نہ ہوں گے کہ وہ اس مریمی حالت سے ترقی کرتے کرتے عیسوی حالت تک پہنچ جائے گا۔اس کی ابتدائی زندگی تو مریم کی طرح پاک اور بے عیب ہوگی اور اس کی آخری زندگی عیسی علیہ السلام کی طرح رُوح القدس سے مؤیّد ہوگی اور دنیا کی اصلاح اور صداقت کے قائم کرنے میں صرف ہوگی۔قرآن کریم کے معانی پر تدبر کرنا اور اس کے مطالب کے سمندر میں غوطہ لگا کر