دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 397

دعوت الامیر — Page 35

(ra) دعوة الامير جائیں بجائے اس کے کہ ایسے کلمات آپ کے حق میں تحریر کریں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں ، آپ کی قوت قدسیہ کبھی باطل نہیں ہو سکتی۔آپ خاتم النبیین ہیں آپ کا فیضان کبھی رُک نہیں سکتا، آپ کا سر کسی کے احسان کے آگے جھک نہیں سکتا بلکہ آپ کا احسان سب نبیوں پر ہے۔کوئی نبی نہیں جس نے آپ کو منوایا ہو اور آپ کی صداقت آپ کے منکروں سے منوائی ہو لیکن کیا لاکھوں کروڑوں انسان نہیں جن سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی انبیاء کی نبوت منوائی ہے۔ہندوستان میں آٹھ کروڑ مسلمان بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے بہت ہی تھوڑے ہیں جو بیرونی ممالک کے رہنے والے ہیں باقی سب ہندوستان کے باشندے ہیں جو کسی نبی کا نام تک نہ جانتے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی علیہم السلام پر ایمان لے آئے ہیں۔اگر اسلام ان کے گھروں میں داخل نہ ہوا ہو تا تو آج وہ ان نبیوں کو گالیاں دے رہے ہوتے اور اُن کو جھوٹے آدمیوں میں سے سمجھ رہے ہوتے جس طرح کہ ان کے باقی بھائی بندوں کا آج تک خیال ہے۔اسی طرح افغانستان کے لوگ اور چین کے لوگ اور ایران کے لوگ کب حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کو مانتے تھے ،ان سے ان انبیاء کی صداقت کا اقرار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی کرایا ہے۔پس آپ کا سب گزشتہ نبیوں پر احسان ہے کہ ان کی صداقت لوگوں پر مخفی تھی آپ نے اس کو ظاہر فرمایا، مگر آپ پر کسی کا احسان نہیں۔آپ پر اللہ تعالیٰ وہ دن بھی نہیں لائے گا جب آپ کا فیضان بند ہو جائے اور کوئی دوسرا نبی آکر آپ کی امت کی اصلاح کرے بلکہ جب کبھی بھی آپ کی امت کی اصلاح کی ضرورت پیش آئے گی اللہ تعالیٰ آپ ہی کے شاگردوں میں سے اور آپ ہی کے امتیوں میں سے ایسے لوگ جنہوں نے سب کچھ آپ ہی سے لیا ہو گا اور آپ ہی سے سیکھا ہو گا مقرر