دعوت الامیر — Page 375
(+20) دعوة الامير تتمه میں سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے ثابت کرنے کیلئے یہ بارہ دلائل جو میں نے بیان کئے ہیں کافی ہیں اور جو کوئی شخص بھی ان پر حق کو پالینے کی نیت سے غور کرے گا وہ حق الیقین تک پہنچ جائے گا کہ حضرت اقدس اللہ تعالیٰ کے مسیح اور اس کے مامور اور مرسل ہیں اور یہ کہ اب کسی اور مسیح کا انتظار فضول ہے اور پیاسوں کی طرح آپ پر ایمان لانے کے لیے دوڑے گا اور اس سلک میں پروئے جانے کو اپنے لیے موجب فلاح سمجھے گا جسے مسیح موعود علیہ السلام نے تیار کیا ہے۔ایک مسلمان کہلانے والے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی شہادت سے زیادہ کس چیز کی قیمت ہو سکتی ہے اور جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں حضرت اقدس علیہ السلام کے دعوے کے متعلق اللہ تعالیٰ کی شہادتیں بھی موجود ہیں اور اس کے رسول کی شہادتیں بھی موجود ہیں بلکہ ہر ایک نبی کی جس کا کلام محفوظ ہے آپ کے صدق دعویٰ پر شہادت موجود ہے عقل کہتی ہے کہ اس زمانے میں ایک مصلح آنا چاہئیے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامات مسیح موعود اور مہدی معہود کی بیان فرمائی تھیں وہ پوری ہو چکی ہیں۔آپ کی پاک زندگی آپ کے دعوے پر شاہد ہے، جن دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے مسیح موعود کو آنا تھا اور جس رنگ میں اُن کو شکست دینی تھی وہ دشمن اس وقت موجود ہیں اور مسیح موعود نے ان کو شکست دے دی ہے مسلمانوں کے اندرونی فسادات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ اُن سے بڑھ کر قرآن کریم کی موجودگی میں فساد کا پیدا ہونا ناممکن ہے اور ان کی اصلاح بھی اعلیٰ سے اعلیٰ طریق پر حضرت اقدس نے کر دی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کے