دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 397

دعوت الامیر — Page 348

(FCA) دعوة الامير صفحہ ۱۰۳۔ایڈیشن چہارم) میں تم کو مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت دوں گا۔ثُلَّةَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ ثُلَّهُ مِنَ الْآخَرِيْنَ۔(تذکرہ صفحہ ۱۰۳، ایڈیشن چہارم) پہلوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت تم کو دی جائے گی اور پچھلوں میں سے بھی جس کے معنی یہ بھی ہیں کہ پہلے انبیاء کی امتوں میں سے بھی ایک گروہ کثیر تم پر ایمان لائے گا اور مسلمانوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت تم پر ایمان لائے گی۔يَا نَبِيَّ اللَّهِ كُنْتُ لَا أَعْرِفُكَ ( تذکرہ صفحہ ۵۰۳۔ایڈیشن چہارم) زمین کہے گی ( یعنی اہل زمین ) کہ اے اللہ کے نبی! میں تجھے نہیں پہچانتی تھی۔اِنَّا نَرِثُ الْأَرْضَ نَأْكُلُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ( تذکرہ صفحہ ۴۶۶۔ایڈیشن چہارم) ہم زمین کے وارث ہوں گے اُسے اس کے کناروں کی طرف سے کھاتے آویں گے۔ان الہامات میں سے بہت سے تو ایسے وقت میں ہوئے اور اسی وقت شائع بھی کرا دیئے گئے جبکہ آپ پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لا یا تھا اور بعض بعد کو ہوئے جب سلسلہ قائم ہو چکا تھا مگر وہ بھی ایسے وقت میں ہوئے ہیں جبکہ سلسلہ اپنی ابتدائی حالت میں تھا اس وقت آپ کا یہ الہام شائع کر دینا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ کے ساتھ ایک بڑی جماعت ہو جائے گی اور صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ تمام ممالک میں آپ کے مرید پھیل جائیں گے اور ہر مذہب کے لوگوں میں سے نکل کر لوگ آپ کے مذہب میں داخل ہوں گے۔اور اُن کو اللہ تعالیٰ بہت بڑھائے گا اور کسی ملک کے لوگ بھی آپ کی تبلیغ سے باہر نہیں رہیں گے۔کیا یہ ایک معمولی بات ہے؟ کیا انسانی دماغ قیاسات کی بناء پر ایسی بات کہہ سکتا ہے؟ یہ زمانہ علمی زمانہ ہے اور لوگ اپنے پہلے مذہب کو جس کی صداقت یوم ولادت سے اُن کے ذہن نشین کی جاتی رہی تھی چھوڑ رہے ہیں۔آجکل مسیحی مسیحی نہیں رہے۔ہندو ہندو نہیں