دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 397

دعوت الامیر — Page 345

۳۴۵ دعوة الامير ہماری جماعت غرباء کی جماعت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ابتداءً غریب لوگ ہی اس کے سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر لوگ کہہ دیا کرتے ہیں مائرنگ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ أَرَاذِلْنَا بَادِيَ الرَّأْيِ (هود:۲۸) اور اس میں اُس کی حکمت یہ ہوتی ہے تا کوئی شخص یہ نہ کہے کہ یہ سلسلہ میری مدد سے پھیلا اور تا نادان مخالف بھی اس قسم کا اعتراض نہ کر سکیں پس ایسی جماعت سے اس قدر بوجھ اٹھوانا بلا نصرت الہی نہیں ہوسکتا۔یہ غریب جماعت اسی طرح سرکاری ٹیکس ادا کرتی ہے جس طرح اور لوگ ادا کرتے ہیں۔زمینوں کے لگان دیتی ہے۔سڑکوں، شفاخانوں وغیرہ کے اخراجات میں حصہ لیتی ہے۔غرض سب خرچ جو دوسرے لوگوں پر ہیں وہ بھی ادا کرتی ہے اور پھر دین کی اشاعت اور اس کے قیام کے لیے بھی روپیہ دیتی ہے اور برابر پینتیس سال سے اس بوجھ کو برداشت کرتی چلی آرہی ہے۔اس زمانے میں بے شک نسبتاً زیادہ آسودہ حال اور معز ز لوگ اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں مگر اسی قدر اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔پس کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ جبکہ باقی دنیا باوجود ان سے زیادہ مالدار ہونے کے اپنے ذاتی اخراجات کی تنگی پر ہی شکوہ کرتی رہتی ہے۔اس جماعت کے لوگ لاکھوں روپیہ سالانہ ہلا ایک سال کا وقفہ ڈالنے کے اللہ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس امر کے لیے بھی تیار ہیں کہ اگر اُن سے کہا جائے کہ اپنے سب مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دو تو وہ اُسی وقت دے دیں۔یہ بات کہاں سے پیدا ہوگئی؟ یقیناً أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عبدہ کا الہام نازل کرنے والے نے لوگوں کے دلوں میں تغیر پیدا کیا ہے ورنہ کونسی طاقت تھی جو اس وقت جبکہ حضرت مسیح موعود کو معمولی اخراجات کی فکر تھی، اس قدر بڑھ جانے والے اخراجات کے پورا کرنے کا وعدہ کرتی اور اُس وعدہ کو پورا کر کے دکھا دیتی۔آخر