دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 397

دعوت الامیر — Page 344

(re) دعوة الامير کے انتظام میں مشغول تھی ، پھر اُن میں سے بہت سے لوگ اپنے اخراجات خود بھی برداشت کرتے تھے مہمانوں کی نسبت میز بانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔افغانستان کے ایک کروڑ کے قریب باشندے صرف ایک دولاکھ آدمیوں کے مہمان دار بنے تھے، مگر باوجود اس کے مہمان داری میں کس قدر دقتیں پیش آئیں ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دو ہزار غریب آدمیوں کی جماعت پر جب ایک ہی وقت میں سینکڑوں مہمانوں اور غریب مہاجرین کا بوجھ پڑا ہو گا اور ساتھ ہی اشاعت اسلام کے کام کے لیے بھی ان کو روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہوگا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ اُن کے اپنے گھروں میں بھی لڑائی جاری تھی تو اُن لوگوں کی گردنیں کس قدر بار کے نیچے دب گئی ہوں گی۔یہ ضروریات سلسلہ ایک دو روز کے لیے نہ تھیں اور نہ ایک دو ماہ کے لیے نہ ایک دو سال کے لیے، بلکہ ہر سال کام ترقی کرتا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کام کے لیے آپ ہی بندوبست کر دیتا تھا ، ۱۸۹۸ء میں حضرت اقدس نے جماعت کے بچوں کی دینی تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ہائی سکول کھول دیا اس سے اخراجات میں اور ترقی ہوئی۔پھر ایک رسالہ انگریزی اور ایک اُردو ماہواری اشاعت اسلام کے لیے جاری کیا اس سے اور بھی ترقی ہوئی ، مگر اللہ تعالیٰ سب اخراجات مہیا کرتا چلا گیا ، حتی کہ اس وقت ایک انگریزی ہائی سکول کے علاوہ ایک دینیات کا کالج، ایک زنانہ مدرسہ، کئی پرائمری اور مڈل سکول، ہندوستانی مبلغین کی ایک جماعت، ماریشس مشن، سیلون مشن، انگلستان مشن، امریکن مشن اور بہت سے صیغہ جات، تالیف واشاعت تعلیم و تربیت، انتظام عام اور قضاۃ اور افتاء وغیرہ کے ہیں اور تین چار لاکھ کے قریب سالانہ خرچ ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے وعدہ الیس اللهُ بِكَافٍ عَبَدَہ کے ماتحت ہم پہنچارہا ہے۔