دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 397

دعوت الامیر — Page 342

(Fr) دعوة الامير آپ کے دعوے پر اطلاع ہو جائے یہی اخراجات بہت تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اظہار کے لیے اور اخراجات کے دروازے بھی کھول دیئے یعنی آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ قادیان میں مہمان خانہ تعمیر کریں اور لوگوں میں اعلان کریں کہ وہ قادیان آ کر آپ کے مہمان ہوا کریں اور دینی معلومات کو زیادہ کیا کریں یا اگر کوئی شکوک ہوں تو اُن کو رفع کیا کریں۔سب مدد گاروں کا جُدا ہو جانا اور اشاعت کے کام کا وسیع ہو جانا اور پھر اس پر مزید بوجھ مہمان خانے کی تعمیر اور مہمان داری کے اخراجات کا ایسی مشکلات کے پیدا کرنے کا موجب ہو سکتا تھا کہ سارا کام درہم برہم ہو جا تا مگر اللہ تعالیٰ نے ان چند درجن آدمیوں کے دل میں جو آپ کے ساتھ تھے اور جن میں سے کوئی شخص بھی مالدار نہیں کہلا سکتا تھا اور اکثر مسکین آدمی تھے ایسا اخلاق پیدا کر دیا کہ انہوں نے ہر قسم کی تکلیف برداشت کی لیکن دین کے کام میں ضعف نہ پیدا ہونے دیا اور در حقیقت یہ اُن کی ہمت کام نہیں کر رہی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کام کر رہا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ احمدی جماعت پر چاروں طرف سے سختی کی جاتی تھی۔مولویوں نے فتویٰ دے دیا کہ احمدیوں کو قتل کر دینا، ان کے گھروں کو لوٹ لینا، اُن کی جائیدادوں کا چھین لینا، اُن کی عورتوں کا بلا طلاق دوسری جگہ پر نکاح کر دینا جائز ہی نہیں موجب ثواب ہے اور شریر اور بدمعاش لوگوں نے جو اپنی طمع اور حرص کے اظہار کے لیے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں، اس فتوے پر عمل کرنا شروع کر دیا۔احمدی گھروں سے نکالے اور ملازمتوں سے برطرف کئے جارہے تھے اُن کی جائیدادوں پر جبراً قبضہ کیا جارہا تھا اور کئی لوگ ان مخمصوں سے خلاصی کی کوئی صورت نہ پا کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور چونکہ ہجرت کی جگہ اُن کے لیے قادیان ہی تھی ، اُن کے قادیان آنے پر مہمان