دعوت الامیر — Page 314
(ric) دعوة الامير آتی تھی اور جس کی آتش فشانی تو ہم پرست ہندوؤں سے ایک دیوی کا ہد یہ لینے کے سوا اور کسی لائق نہیں سمجھی جاتی تھی اور جس کے متعلق علم طبقات الارض کے ماہروں کا خیال تھا کہ اپنی قوت انفجار کو ضائع کر چکی ہے اور اس سے کسی تباہی کا خطرہ نہیں رہا ہے اور جس کے ارد گر دسینکڑوں سال پہلے کے بنے ہوئے بڑے بڑے قیمتی مندر موجود تھے اور ہزاروں آدمی جن کی زیارت کے لیے جاتے رہتے تھے۔اس نا قابل اندیشہ پہاڑی کو صاحب قدرت و جبروت ہستی کی طرف سے حکم پہنچا کہ وہ اپنے اندر ایک نیا جوش پیدا کرے اور اس کے مامور کی صداقت پر گواہی دے۔الہام میں جیسا کہ اس کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے ایسی جگہ زلزلے کے سب سے زیادہ تباہ کن ہونے کی خبر دی گئی ہے جہاں ایسے مکانات کثرت سے ہوں جو عارضی سکونت کے لئے ہوتے ہیں اور ایسے مکانات یا تو سرائیں اور ہوٹل ہوتے ہیں یا کیمپ کی فوجی بارکیں جن میں فوجیں آتی جاتی رہتی ہیں اور جو مستقل سکونت کے لیے نہیں ہوتیں۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ الہام عَفَتِ الذِيَارُ مَحِلُّهَا وَمَقَامُهَا مِیں مَحِلُّهَا کا لفظ مَقَامُهَا کے لفظ سے پہلے رکھنا امر مذکورہ بالا پر زور دینے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس لیے ہے کہ اس مصرع میں شاعر ( حضرت لبید بن ربیعہ عامری) نے قافیہ کی پابندی کی وجہ سے لفظ مَحِلُّ کو لفظ مَقَام سے پہلے رکھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو حضرت لبید کا یہ مصرع الہام کے لیے انتخاب فرمانے میں کوئی مجبوری نہیں تھی۔وہ اس کی جگہ کوئی اور عبارت نازل فرما سکتا تھا یا چونکہ یہ مصرع اکیلا ہی الہام کیا تھا یہ کسی دوسرے الہامی مصرع کے ساتھ چسپاں نہیں تھا کہ اس کے قافیے کی رعایت مد نظر ہوتی وہ اسی کے الفاظ کو آگے پیچھے کر سکتا تھا۔پس یہ الفاظ در حقیقت اسی بات کے ظاہر کرنے کے لیے برقرار رکھے گئے کہ زلزلہ ایک ایسے مقام پر آئے گا جہاں