دعوت الامیر — Page 304
(r۔) دعوة الامير ہے (۶) وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا گشتہ ہوگا۔یہ نشانات اور علامتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کے منطوق اور مفہوم کی نسبت کچھ بھی شبہ نہیں رہ جاتا۔ان پیشگوئیوں کے پورے پانچ سال کے بعد جبکہ دشمن ہنس رہے تھے کہ پانچ سال گزر گئے اور کچھ بھی نہیں ہوا۔مرزا صاحب جھوٹے نکلے۔عید الفطر کے جو جمعہ کو ہوئی تھی دوسرے دن ہفتے کو عصر کے وقت لیکھرام کسی نامعلوم شخص کے تیز بنجر سے زخمی کیا گیا اور اتوار کے دن مر گیا اور اللہ تعالیٰ کا کلام اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ پورا ہوا۔الہام میں تھا کہ وہ چھ سال کے اندر مرے گا وہ چھ سال کے اندر ہی مر گیا، بتایا گیا تھا کہ اس کا واقعہ عید کے دن سے ملے ہوئے دن کو ہوگا اور وہ مومنوں کے لیے عید کا دن ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ عید کے دوسرے ہی دن زخمی ہوا۔کہا گیا تھا کہ اس کو کوئی شخص جس کے چہرے سے خون ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا تھا ہلاک کرے گا سوایسا ہی ہوا۔بتایا گیا تھا کہ اس کو تیغ محمدمہ قتل کرے گی سو وہ قتل کیا گیا۔خبر دی گئی تھی کہ اس کا حال گوساله سامری کی طرح ہوگا سو جس طرح گوسالہ سامری ہفتے کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا وہ بھی ہفتے ہی کے دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا اور جس طرح گوساله سامری پہلے جلایا گیا اور پھر اس کی راکھ دریا میں ڈالی گئی تھی اسی طرح لیکھرام بھی بسبب ہندو ہونے کے پہلے جلایا گیا اور پھر اس کی راکھ دریا میں ڈالی گئی۔اس کے قتل کے واقعات کی تفصیل یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک شخص اس کے پاس آیا جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اُس کی آنکھوں سے خُون ٹپکتا تھا اور اس نے لیکھر ام سے کہا کہ وہ مسلمان سے ہندو ہونا چاہتا ہے۔لیکھرام نے باوجو دلوگوں کے سمجھانے کے کہ اس کو اپنے پاس رکھنا ٹھیک نہیں اس کو اپنے پاس رکھا۔لیکھرام کو اس پر بہت اعتبار ہو گیا تھا، آخر اس نے وہی دن اس کو آریہ بنانے کے لیے مقرر کیا جس دن وہ زخمی کیا گیا وہ ہفتے کا