دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 397

دعوت الامیر — Page 15

(10) دعوة الامير تعالیٰ کی عظمت اور اُس کے رسول کی عزت کی طرف جاتا ہے اور گو ہم سب رسولوں کو مانتے ہیں، لیکن ہماری محبت اور غیرت بالطبع اُس نبی کے لئے زیادہ جوش میں آتی ہے جس نے ہمارے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالا اور ہمارے بوجھوں کو ہلکا کرنے کے لئے اپنے سر پر بوجھ اٹھایا اور ہمیں مرتا ہوا دیکھ کر اس نے اس قدر غم کیا کہ گویا خود اپنے او پر موت وارد کرلی اور ہمیں سکھ پہنچانے کے لئے ہر قسم کے سکھوں کو ترک کیا اور ہمیں اوپر اٹھانے کے لئے خود نیچے کو جھکا۔اس کے دن ہماری بہتری کی فکر میں صرف ہوئے اور اس کی راتیں ہمارے لئے جاگتے کٹیں حتی کہ کھڑے کھڑے اس کے پاؤں سوج جاتے اور خود بے گناہ ہوتے ہوئے ہمارے گناہوں کو دور کرنے کے لئے اور ہمیں عذاب سے بچانے کے لئے اُس نے اس قدر گریہ وزاری کی کہ اس کی سجدہ گاہ تر ہوگئی اور اس کی رفت ہمارے لئے اس قدر بڑھ گئی کہ اس کے سینے کی آواز اُبلتی ہوئی دیگ سے بھی بڑھ گئی۔اس نے خدا تعالیٰ کے رحم کو ہمارے لئے کھینچا اور اس کی رضاء کو ہمارے لئے جذب کیا اور اس کے فضل کی چادر ہم کو اڑھائی اور اس کی رحمت کا لبادہ ہمارے کندھوں پر ڈال دیا اور اس کے وصال کی راہیں ہمارے لئے تلاش کیں اور اس سے اتحاد کا طریق ہمارے لئے دریافت کیا اور ہمارے لئے وہ سہولتیں بہم پہنچا ئیں کہ اس سے پہلے کسی نبی نے اپنی اُمت کے لئے ہم نہ پہنچائی تھیں۔ہمیں کفر کے خطاب نہایت بھلے معلوم ہوتے ہیں بہ نسبت اس کے کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے پالنے والے اور اپنے زندگی بخشنے والے اور اپنی حفاظت کرنے والے اور رزق دینے والے اور اپنے علم بخشنے والے اور اپنے ہدایت عطا کرنے والے خدا کے برابر مسیح ناصری کو درجہ دیں اور یہ خیال کریں کہ جس طرح وہ آسمانوں پر بلا کھانے اور