دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 397

دعوت الامیر — Page 218

۲۱۸ دعوة الامير اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيز (المجادلة : ۲۲) اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر فرض کر دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے وہ قوت والا اور غالب ہے۔پس اس نے اپنی قوت اور غلبہ کے اظہار کے لئے یہ قانون بنا دیا کہ جب اس کا کلام لیکر اس کے رسول مبعوث ہوں تو وہ ان کو غلبہ دے، کیونکہ اگر وہ ان کو غالب نہ کرے تو اس کی قوت اور عزت میں لوگوں کو شبہ پیدا ہو جائے گا۔اسی طرح فرماتا ہے اِنَّا لَتَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوْا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْأَشْهَادُ (المؤمنون: ۵۲) ہم ضرور اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ہمارے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی مدد کیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے وَلَكِنَّ اللهَ يُسَلِّطْ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيزِ O (الحشر:) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو جن لوگوں پر چاہتا ہے تسلط عطا کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔یہ تو اس مضمون کی آیات ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو غلبہ عطا فرماتا ہے اور ان کو دوسرے لوگوں پر تسلط عطا فرماتا ہے خواہ جسمانی اور روحانی طور پر خواہ صرف روحانی طور پر، ان کے سوا قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی جھوٹا دعوی ماموریت اور رسالت کا کرے تو اس کو سز ابھی ملتی ہے اور وہ کسی صورت میں ہلاکت سے بچ نہیں سکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ هِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَامِنَهُ الْوَتِينَ (الحاقة : ۴۷۵۴۵) یعنی اگر یہ رسول جان بوجھ کر ہم پر جھوٹ باندھ رہا ہوتا، تو ہم اس کا دایاں بازو پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔یعنی اس کی نصرت