دعوت الامیر — Page 216
۲۱۲ دعوة الامير کر دیا ہے اور اسلام کو پھر اس کی اصل شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس سے اب وہ سب دوست و دشمن کے دلوں کو لبھانے لگ گیا ہے اور اس کی قوت قدسیہ پھر اپنا اثر دکھانے لگ گئی ہے۔اے بادشاہ ! جس قدر نقائص او پر بطور مثال بیان ہوئے ہیں جو ان بہت سے نقائص میں سے چند ہیں جو اس وقت مسلمانوں میں پیدا ہو چکے ہیں آپ ان کو دیکھ کر ہی معلوم کر سکتے ہیں کہ ایک محفوظ کتاب کی موجودگی میں جیسا کہ قرآن کریم ہے اس سے زیادہ مفاسد اسلام میں نہیں پیدا ہو سکتے۔اگر اس سے زیادہ مفاسد پیدا ہوں گے تو اسی صورت میں کہ قرآن کریم ہی نعوذ باللہ من ذالک بدل جائے ، مگر یہ ناممکن ہے۔پس اور مفاسد بھی پیدا ہونے ناممکن ہیں۔اب غور کرنا چاہئے کہ جب اسلام کے اندر مفاسد اپنی انتہاء کو پہنچ گئے ہیں تو اور کونسا وقت ہے جبکہ مسیح موعود آئیں گے اور جبکہ ان تمام مفاسد کی اصلاح حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے کر دی ہے اور اسلام کو ہر ایک شر سے محفوظ کر دیا ہے تو پھر کسی کے آنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ وہ کام مسیح موعود کیلئے اور صرف حضرت مسیح موعود کے لئے مقدر تھا آپ نے باحسن وجوہ پورا کر دیا ہے تو آپ کے مسیح موعود ہونے میں کیا شک ہے۔جب سورج نصف النہار پر آجائے تو پھر اس کا انکار نہیں ہوسکتا، اسی طرح ایسے واضح دلائل کی موجودگی میں حضرت مرزا صاحب کے مسیح موعود ہونے کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔