دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 397

دعوت الامیر — Page 211

۲۱۱ دعوة الامير ظاہری نشانات ہیں۔جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اس وقت لوگوں کی حالت بلحاظ تمدن کے بالکل ابتدائی تھی اور لوگ وحشی تھے۔ظاہر پر خاص زور دیا جاتا تھا۔اب علمی زمانہ ہے۔اب لوگ خوب سمجھدار ہو گئے ہیں۔اب ان ظاہری رسوم کی پابندی چنداں ضروری نہیں۔اگر کوئی شخص صفائی رکھتا ہے، خدا کو دل میں یاد کرتا ہے ، قوم کا درد و غم دل میں رکھتا ہے، غرباء کی مدد کیا کرتا ہے، کھانے پینے میں احتیاط کرتا ہے، قومی کاموں میں شریک ہوتا ہے تو یہی اس کی نماز اور یہی اس کا روزہ اور یہی اس کی زکوۃ اور یہی اس کا حج ہے۔بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر رسول کریم سے ایک خاص قسم کا پاجامہ پہننا ثابت ہے تو اسی قسم کا پاجامہ پہنا چاہئے اور اگر آپ نے بال لمبے رکھے ہوئے تھے تو ہمیں بھی بال لمبے رکھنے چاہئیں۔على هذا القیاس۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حق نہ تھا کہ لوگوں کو کچھ حکم دیتے وہ ہماری طرح کے انسان ہیں جو کچھ قرآن کریم میں آ گیا وہ حجت ہے باقی سب باطل ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں بزرگوں نے جو کچھ کہدیا کہدیا ، ان کے خیال کے خلاف اور کوئی بات قابل تسلیم نہیں ہمارا فرض ہے کہ اندھادھندان کی تقلید کریں۔یہ تو اصولی باتیں ہیں۔اب رہیں جزئیات۔اُن میں اور بھی اندھیر ہے۔بعض لوگ غیر زبانوں کا پڑھنا بھی گفر قرار دیتے ہیں۔بعض لوگ علوم جدیدہ کا سیکھنا ایمان کے منافی خیال کرتے ہیں ان کے مقابلے میں ایک حصہ مسلمانوں کا سود جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأْذَنُوا بِحَرْبِ مِینَ الله (البقرة: ۲۸۰) کو جائز قرار دیتا ہے۔