دعوت الامیر — Page 210
(ri۔) دعوة الامير جانے والا ہے مگر وہ غیر محدود نہیں ہے آخر کاٹا جائے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ جو اپنی ذات کی نسبت فرماتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف:۱۵۷) اس کی شان سے بعید ہے کہ عاجز بندے کو نہ ختم ہونے والا عذاب دے اور جبکہ قرآن کریم جنت کے انعامات کو غَيْرَ مَجْذُوذٍ (هود: ۱۰۹) اور غَيْرُ مَمْنُونٍ (التين:۷ ) قرار دیتا ہے اور دوزخ کے عذاب کی نسبت یہ الفاظ نہیں استعمال فرماتا تو ضرور ہے کہ دونوں میں کچھ فرق ہو پھر بندہ کیوں خدا کی لگائی ہوئی شرائط کو چھوڑ دے؟ خصوصاً جبکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے مطالب کی تفسیر ان الفاظ میں فرما دیں کہ يَأْتِی عَلَى جَهَنَّمَ يَوْمَ مَافِيَهَا مِنْ بَنِي أَدَمَ اَحَدْ تُخْفَقُ اَبْوَابُهَا (کنز العمال جلد ۱۴ صفحه ۵۲۷ روایت ۳۹۵۰۶ مطبوعه حلب ۱۹۷۵ء) یعنی ایک وقت جہنم پر ایسا آئے گا کہ اس کے اندر ایک آدمی بھی نہ رہے گا اور اس کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں گے۔کسی کا کیا حق ہے کہ خدا کی رحمت اور اس کی بخشش کی حد بندی کرے؟ ان ارکانِ ایمان کے علاوہ عملی حصے میں بھی بہت بڑی بڑی تبدیلیاں پیدا ہوگئی تھیں بعض لوگوں نے اباحت پر زور دے رکھا تھا اُن کا یہ عقیدہ ہو رہا تھا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ آدمی کہہ دے اور پھر جو چاہے کرے۔ان لوگوں کا یہ یقین تھا کہ اگر ہم لوگ گناہ نہ کریں گے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعت کس کی کریں گے۔بعض لوگوں کا یہ خیال ہو رہا تھا کہ شریعت اصل مقصود نہیں وہ تو خدا تک پہنچانے کیلئے بمنزلہ کشتی کے ہے پس جب انسان خدا کو پالے تو پھر اسے کسی کشتی میں بیٹھا رہنے کی کیا ضرورت ہے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ احکام شریعت در حقیقت باطنی امور کے لئے