دعوت الامیر — Page 178
(KA) دعوة الامير ایک ضرور مانی پڑیگی یا تو یہ کہ اسلام کی تاخیر کی نسبت جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ ایک افسانے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا بزرگوں کی نسبت پچھلوں کی حسن ظنی ہے اور کچھ بھی نہیں۔یا یہ ماننا پڑے گا کہ اسلام پر آج کل کوئی عمل ہی نہیں کرتا، یا یہ کہ اسلام میں ہی تغییر آ گیا ہے اس لئے اب اس پر عمل کچھ مفید نہیں ہوتا اور یہ آخری بات ہی درست ہے کیونکہ پہلے زمانے میں جو اس کا اثر تھا وہ روایتوں سے ہی ثابت نہیں۔دنیا کے چاروں گوشوں میں اسلام کے آثار اس ترقی کے شاہد ہیں جو اسلام پر چلنے کے سبب سے مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی اور یہ بھی نہیں کہ آج کل کوئی اسلام پر عمل نہیں کرتا ، اسلام کے جو معنے لوگ ا سمجھتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔بعض لوگ چلہ کشی کرتے کرتے اپنی جان دے دیتے ہیں مگر ان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔پس ایک ہی بات رہ گئی اور وہی اصل باعث ہے کہ اسلام کا مفہوم لوگوں کے ذہنوں میں بدل گیا ہے اور سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق لَمْ يَبْقَ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ (مشكوة كتاب العلم الفصل الثالث صفحه ۳۸ مطبوعه قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی ۱۳۲۸ھ، کنز العمال جلد ۶ صفحه ۴۳ روایت ۷۶۷ مطبوعہ حیدر آباد ۱۳۱۳ ھ میں الفاظ اس طرح ملتے ہیں ”لا يبقى من الاسلام الا اسمه “ آج اسلام کا صرف نام باقی رہ گیا ہے اور زمانہ نبوی سے بعد کی وجہ سے لوگوں نے مغز اسلام کو بالکل بدل دیا ہے اور اب موجودہ شکل میں اپنے پیروؤں کے اندر وہ تبدیلی کے پیدا کرنے سے قاصر ہے جو پہلے پیدا کیا کرتا تھا اور موجودہ شکل میں دوسرے ادیان کے پیروؤں کے دلوں پر بھی کچھ اثر نہیں کر سکتا اور گو کبھی کبھی اس کے محوشدہ آثار کسی سعید فطرت کے دل کو صداقت کی طرف مائل کر دیں مگر بطور قاعدہ اب اس کا وہ اثر نہیں جو پہلے ہوا کرتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے آپ