دعوت الامیر — Page 175
۱۷۵ دعوة الامير جوں لوگ اپنے مذاہب کے بے اثر ہونے اور اسلام کے زندہ اور مؤثر ہونے کو دیکھیں گے اسلام کی صداقت ان پر کھلتی جائے گی۔کیونکہ مباحثات میں انسان باتیں بنا کر حق کو چھپا سکتا ہے مگر مشاہدے اور تاثیر کے مقابلے میں اس سے کوئی عذر نہیں بن سکتا اور آخر دل سچائی کا شکار ہو ہی جاتا ہے یہ حربہ بھی انشاء اللہ اظہار دین کے لئے نہایت زبردست اور سب سے زبر دست حربہ ثابت ہوگا، بلکہ ہر عقلمند انسان کے نزدیک اس حربے کے ذریعے سے عقلاً اسلام غالب ہو چکا ہے گو مادی نتیجہ کچھ دن بعد پیدا ہو۔یہ پانچ حربے جو حضرت اقدس نے دشمنانِ اسلام پر چلائے ہیں میں نے بطور مثال پیش کئے ہیں جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جو کام مسیح موعود کے لئے تھا وہ آپ کر چکے ہیں اور اگر آپ مسیح موعود نہیں ہیں تو پھر سوال ہوتا ہے کہ اب کونسا کام رہتا ہے جو مسیح موعود آکر کرے گا ؟ کیا یہ تلوار سے لوگوں کو دین میں داخل کرے گا؟ تلوار سے داخل کئے ہوئے لوگ اسلام کو کیا فائدہ دیں گے؟ اور خود ان کو اس جبری ایمان سے کیا فائدہ ہوگا؟ اگر آج مسیحی اپنی طاقت کے نشہ میں مسلمانوں کو جبراً مسیحی بنانے لگیں۔تو ان کی نسبت ہر شریف آدمی اپنے دل میں کیا کہے گا ؟ اگر ان کے اس فعل کو ہم گندے سے گندہ فعل خیال کریں گے تو کیوں اسی قسم کا فعل اگر مسیح موعود کریں گے تو وہ بھی قابل اعتراض نہ ہوں گے؟ یقیناً تلوار سے اسلام میں لوگوں کو داخل کرنا اسلام کے لئے مضر ثابت ہوگا نہ کہ مفید۔وہ ہر شریف الطبع اور آزادی پسند آدمی کو اسلام سے متنفر کر دے گا۔پس تلوار چلانے کے لئے مسیح کی آمد کی ضرورت نہیں ، ان کا یہی کام ہو سکتا ہے کہ وہ دلائل سے اسلام کو غالب کریں اور دلائل سے اور مشاہدات کی تائید سے اسلام کو دوسرے مذاہب پر مرزا صاحب غالب کر چکے ہیں۔اب اس کام کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا کہ مسیح آکر کریں۔پس مرزا صاحب ہی مسیح