دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 397

دعوت الامیر — Page 156

(104) دعوة الامير داہنے ہاتھ پر جا بیٹھنا ان کی عظمت اور خدا ئی کا اقرار کر والیتا تھا۔آپ نے ان دونوں باتوں کو انجیل ہی سے غلط ثابت کر کے دکھایا اور تاریخ سے ثابت کر دیا کہ مسیح کا صلیب پر مرنا ناممکن تھا کیونکہ صلیب پر لوگ تین تین دن تک زندہ رہتے تھے اور مسیح کو صرف بقول اناجیل تین چار گھنٹے صلیب پر رکھا گیا، بلکہ انجیل میں ہے کہ جب ان کو صلیب سے اتارا گیا تو ان کے جسم میں نیزہ چھونے سے جسم سے زندہ خون نکلا ( یوحنا باب ۱۹ آیت ۳۱ تا ۳۴ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائیٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۰۶ء (مفہوم) اور مُردے کے جسم سے زندہ خون نہیں نکلا کرتا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ثابت کیا کہ حضرت مسیح نے پیشگوئی کی تھی جواب تک اناجیل میں موجود ہے کہ آپ زندہ صلیب سے اتر آئیں گے۔آپ نے فرمایا تھا ، اس زمانے کے لوگوں کو یونس نبی کا سا معجزہ دکھایا جائے گا۔جس طرح وہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا اسی طرح ابن آدم تین دن رات قبر میں رہے گا۔متی باب ۱۲ آیت ۳۹-۴۰ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائیٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۰۶ء (مفہوماً) اور یہ بات متفقہ طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ یونس نبی زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا اور زندہ ہی اس سے باہر آیا۔پس اسی طرح مسیح علیہ السلام بھی زندہ ہی قبر میں اتارے گئے اور زندہ ہی اس میں سے نکالے گئے۔چونکہ تمام دلائل کی بنیادا نا جیل پر ہی تھی اس حربہ کا جواب مسیحی کچھ نہ دے سکتے تھے اور نہ اب دے سکتے ہیں۔پس کفارہ اور مسیح کے دوسروں کی خاطر صلیب پر مارے جانے کا عقیدہ جو مسیحیت کی طرف لوگوں کو کھینچ کر لا رہا تھا بالکل باطل ہو گیا اور اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔دوسری ٹانگ مسیحیت کے بت کی حضرت مسیح کے زندہ آسمان پر جانے اور خدا