دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 397

دعوت الامیر — Page 138

(IPA) زمانے میں نازل ہوا ہے یا پھر وہ کبھی نازل نہ ہوگا۔دعوة الامي اے میں اس جگہ ایک اعتراض کا ذکر کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں جسے مخالف اپنے زعم میں ایک زبردست اعتراض سمجھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود کی آمد سے پہلے دجال کی آمد کی خبر دی گئی ہے وہ چونکہ اب تک نہیں آیا۔اس لئے مسیح موعود نہیں آسکتا۔اگر دجال کی خبر ایک پیشگوئی نہ ہوتی تو یہ اعتراض کچھ حقیقت بھی رکھتا لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ دجال کی آمد بطور پیشگوئی ہے اور پیشگوئیاں تعبیر طلب ہوتی ہیں، اس اعتراض کی کچھ بھی حقیقت باقی نہیں رہتی ، ایک مسلمان قرآن کریم میں وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتَهُمْ لِي سَاجِدِينَ (یوسف:۵) پڑھتے ہوئے اور رانی أَرَى فِي الْمَنَامِ انّى اَذْبَحُكَ (الصافات : ۱۰۳) کی تلاوت کرتے ہوئے پھر ایک غیر معمولی قسم کے دجال کی تلاش میں لگا رہے تو اس پر ضرور افسوس ہے۔افسوس ہے کہ دجال کی پیشگوئی کو سمجھنے کے لئے دوسری احادیث اور سنت اللہ پر بالکل غور نہیں کیا گیا۔جبکہ یہ بات احادیث سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کی آمد سے پہلے دجال کا خروج ہوگا اور یہ بھی کہ اس وقت مسیحیت کا بھی سخت زور ہو گا تو کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ دجال سے مراد مسیحیت ہی ہے چونکہ ایک ہی وقت میں دجال اور مسیحیت کس طرح دنیا پر غالب آ سکتے ہیں دونوں کا ایک ہی وقت دنیا پر غلبہ بتا تا ہے کہ در حقیقت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ایک اور بات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دجال اور سیحی فتنہ ایک ہی لئے ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے فتنے سے بچنے کا علاج فواتح سورہ کہف پڑھنا بتایا ہے اور سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات میں میسحیت کا رد ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَيُنذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا (الكهف:۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ اس کے ذریعے ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا بنا لیا۔پس ثابت ہوا کہ دجال کا فتنہ اور مسیحی فتنہ ایک ہی شے ہے کیونکہ علاج بیماری کے مطابق ہوتا ہے اگر دجالی فتنہ سیمی فتنے سے علیحدہ ہوتا توممکن نہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا