دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 397

دعوت الامیر — Page 129

(ira) دعوة الامير عراق اور شام اور مصر سلطان کے قبضہ سے نکل گئے ہیں اور ترکی حکومت کو کسی قسم کا خراج اور مدد نہیں دیتے اور عرب پھر طوائف الملوکی کی حالت میں ہو گیا ہے۔گوحجاز میں ایک حکومت قائم ہے مگر ابھی تک اس کی حالت بوجہ کثرت اعداء وقلت مال کے محفوظ نہیں ہے اور اس کے علاوہ دیگر علاقہ جات عرب تو بالکل بے انتظام حالت میں ہیں اور وہاں کی حکومتیں متمدن حکومتیں نہیں ہیں۔ایک سیاسی تغییر اس زمانے کا آپ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت یا جوج اور ماجوج کو ایسی طاقت حاصل ہوگی کہ دوسری اقوام کو ان سے مقابلے کی بالکل مقدرت نہ ہوگی۔چنانچہ نواس بن سمعان کی روایت مسلم اور ترمذی میں ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں اللہ تعالیٰ ان کو وحی کرے گا کہ اِنّى قَدْ اَخْرَجْتُ عِبَادَا لَّىٰ لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَزِزُ عِبَادِى إِلَى الطَّوْرِ وَيَبْعَثُ اللَّهَ يَأْجُوجَ وَ مَأْجُوجَ(مسلم کتاب الفتن باب ذكر الدجال وصفته و مامعہ) یہ علامت بھی پوری ہو چکی ہے، یا جوج اور ماجوج ظاہر ہو چکے ہیں اور ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے، یا جوج اور ماجوج سے مراد روس اور انگریزوں کی حکومت اور ان کی اتحادی حکومتیں ہیں جیسا کہ بائیبل میں لکھا ہے کہ ”اے جوج روس اور ٹو بالسک کے بادشاہ اور ماجوج جو جزیروں میں امن سے حکومت کرتے ہو“۔(حز قیل باب ۳۸ آیت ۲ بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ (مفہوم)) یہ دونوں قومیں اپنے حلیفوں کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں اور ان کا عروج جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے نزول مسیح موعود کے بعد مقدر تھا۔پس ان کا عروج اپنی ذات میں بھی دلالت کر رہا ہے کہ مسیح موعود نازل ہو چکا ہے۔ایک تغیر اس زمانے کی سیاسی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان