دعوت الامیر — Page 116
دعوة الامير جس کا یہ مطلب ہے کہ لونڈی سے بھی لوگ رشتہ محبت قائم کر لیتے ہیں اور اس سے شادی کر لیتے ہیں لیکن مومن سے تعلق پیدا کرنا ان دنوں کوئی پسند نہیں کرے گا۔اسی طرح حضرت علیؓ سے دیلمی نے روایت کی ہے کہ ان دنوں نیک چھپ چھپ کر پھریں گے۔(حجج الكرامة في أثار القيامۃ صفحہ ۲۹۵ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) یہ حالت بھی ایک عرصے سے پیدا ہے۔مومنوں سے تعلق کو ناجائز سمجھا جاتا ہے۔جو بھی سچا متبع قرآن مجید اور سنتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو اس سے بدتر انسان مسلمانوں میں کوئی نہیں سمجھا جاتا۔حتی کہ مسیح موعود کی آمد کے بعد تو یہ علامت ایسی ظاہر ہو گئی ہے کہ فاحشہ عورتوں اور بے نمازوں اور خائنوں اور جھوٹ بولنے والوں اور اللہ اور رسول کو برا کہنے والوں سے ملنا اور انکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا تو جائز سمجھا جاتا ہے لیکن جن لوگوں نے آسمانی آواز پر لبیک کہا ہے ان کو دھتکارا جاتا ہے۔اور ان سے فیمنی رکھی جاتی ہے۔ایک علامت اس زمانے کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں عربی کا چر چا کم ہو جائے گا۔(کنز العمال جلد ۱۴ صفحه ۵۶۴ روایت ۳۹۶۰۹ مطبوعه حلب ۱۹۷۵ء) چنانچہ ابن عباس سے مردویہ نے یہ روایت کی ہے کہ آپ نے اشراط ساعت میں سے ایک علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت صفوف تو بڑی لمبی ہوں گی لیکن زبانیں مختلف ہوں گی۔(حجج الكرامة في أثار القيامة صفحہ ۲۹۷ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) اور یہ نقشہ حج کے ایام میں خوب نظر آتا ہے، حج کی بڑی اغراض میں سے ایک غرض