دعوت الامیر — Page 109
(1۔9) دعوة الامير یہ تغیر اس وقت جس حد تک رونما ہورہا ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں ، قمار بازی یورپ اور امریکہ کے لوگوں کا نہ صرف مشغلہ ہے بلکہ ان کے تمدن کا ایک جز ولا ینفک ہو گیا ہے۔ہر ایک زندگی کے شعبے میں جوئے کا کسی نہ کسی صورت میں دخل ہے۔معمولی طریق جوئے کا تو مجالس طعام کے بعد کا ایک معمولی مشغلہ ہے ہی لیکن اس کے سوا بھی لاٹریوں کی وہ کثرت ہے کہ یوں کہنا چاہئے کہ تجارت کا بھی ایک چوتھائی حصہ جوئے کی نذر ہورہا ہے۔ادنی سے لے کر اعلیٰ تک سب لوگ جوا کھیلتے ہیں اور کبھی کبھی نہیں قریباً روزانہ اور جوا کی کلمبیں شاید سب کلبوں سے زیادہ امیر ہیں۔اٹلی کی کلب مانٹی کارلو میں جوامراء کے جوئے کا مقام ہے، بعض اوقات ایک ایک دن میں کروڑوں روپیہ بعض ہاتھوں سے نکل کر جوئے کے ذریعہ سے بعض دوسرے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے، غرض اس قدر کثرت جوئے کی ہے کہ یہ کہنا نا درست نہ ہوگا کہ تمدن جدید میں سے جوئے کو نکال کر اس قدر عظیم الشان خلا پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے کسی اور چیز سے پر نہیں کیا جاسکتا۔بلاخوف انکار ورڈ کہا جاسکتا ہے کہ پہلے زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی لے لیا جائے اس کی ایک سال کی قمار بازی اس زمانے کی ایک دن کی قمار بازی سے بھی ہزاروں حصہ کم رہے گی ،لائف انشورنش ، فائر انشورنس ، تھفٹ انشورنس بیسیوں قسم کے بیسے ہی ہیں جن کے بغیر آج کل لوگوں کا کام نہیں چل سکتا اور جن کے نام سے بھی پہلے لوگ ناواقف تھے۔ایک تغیر اخلاقی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا تھا کہ اس وقت نفس زکیہ مارا جائے گا۔(حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۳۵۱ مطبوعه بهوپال ۱۲۰۹ه، بحارالانوار مؤلفه شیخ محمد باقر المجلسی جلد ۵۲ صفحه ۳۰۴ مطبوعہ بیروت لبنان ۱۹۸۳ء)