دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 397

دعوت الامیر — Page 105

(1۔0) دعوة الامير کے ہم دیکھتے ہیں کہ یورپین تہذیب نے ایسا رنگ اختیار کر لیا ہے کہ اسلام نے جن امور کو فحش قرار دیا ہے وہ اس کی سوسائٹی کے نزدیک تہذیب کا جزو بن گئے ہیں۔مثلاً غیر عورتوں کی کمروں میں ہاتھ ڈال کر نا چنا، عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کرنی، غیر عورتوں کو ساتھ لیکر سیروں کو جانا وغیرہ وغیرہ۔اس زمانے سے پہلے ان باتوں کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔نہ عرب میں نہ کسی اور ملک میں ہندوستان باوجو دسب آثار شرک کے اس فحش سے پاک تھا۔ایران با وجود عیش پسندی کی روایات کے اس فحش سے مبرا تھا۔میسحیت کا سہارا رومی قوم با وجود اخلاقا مردہ ہونے کے اس قسم کی ہوا و ہوس کی غلامی سے محفوظ تھی۔اگر آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تفصیلی نقشہ پہلے لوگوں کے سامنے بیان کر دیا جا تا تو وہ کبھی تسلیم نہ کرتے کہ کسی قوم کی قوم میں باوجود دعوائے تہذیب یہ حرکات کی جاسکتیں اور تہذیب و شائستگی کا جزو سمجھی جاسکتی ہیں۔پہلے زمانے میں بھی ناچ اور تماشے ہوتے تھے لیکن یہ کوئی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ شریف اور تمدن کی جڑ کہلانے والے خاندانوں کی بہو بیٹیاں اس فعل کو اپنا شغل بنائیں گی اور یہ بات موجب فخر ہوگی اور عورت کی قدر ومنزلت کو بڑھا دے گی اور اس کی شرافت میں کچھ نقص پیدا نہ ہونے دے گی۔علاوہ اس فحش کے جو عام ہے بڑا نخش یعنی زنا بھی اس وقت کثرت سے ہے کہ اب وہ اکثر بلا د میں جن میں مسیحیت کا اثر ہے بطور ایک نفسانی کمزوری کے نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک طبعی فعل اور روز مرہ کا شغل خیال کیا جاتا ہے۔بیشک کنچنیاں پہلے زمانوں میں بھی ہوتی تھیں مگر یہ کس کے ذہن میں آ سکتا تھا کہ کسی وقت حکومت عورتوں کو بڑی بڑی تنخواہیں دے کر فوجوں کے ساتھ رکھے گی تا فوجی سپاہیوں کی ضروریات پوری ہوں اور ان کو چھاؤنیوں سے باہر جانے کی تکلیف نہ ہو، کون یہ خیال کر سکتا تھا کہ عورت اور مرد کے تعلقات ایسے وسیع