دعوت الامیر — Page 103
(1+r) دعوة الامير لوگ دین سے بالکل دور جا پڑیں گے اور وہ دین جوان کے ایک آدمی پر نازل ہوا اور ان کے ملک میں اس نے تربیت پائی اور ان کے ملک سے پھیلا اور ان کی زبان میں جس کی الہامی کتاب اتری اور اب تک اسی زبان میں پڑھی جاتی ہے بلکہ اسی کے سبب سے ان کی زبان زندہ ہے وہ اسے چھوڑ دیں گے اور باوجود عربی بولنے کے دین اسلام سے بے بہرہ ہوں گے اور قرآن کریم ان کو نفع نہ دے گا ، بلکہ ان کے دل ویسے ہی عرفان سے خالی ہوں گے جیسے کہ ان لوگوں کے جو قرآن کریم کے سمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتے۔چنانچہ دیلمی نے حضرت علیؓ سے روایت بیان کی ہے کہ اس وقت لوگوں کے دل اعاجم کی طرح ہوں گے اور زبان عربوں کی طرح (حجج الکرامہ فی آثار القیامۃ صفحہ ۲۹۷ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) یعنی عربی بولیں گے لیکن دین عربی کا ان کے دل پر اثر نہ ہوگا، اس وقت یہ تغیر بھی پیدا ہے، عربوں کو دین سے اس قدر بعد اور دوری ہے کہ ان لوگوں سے کم ان کو دین سے ناواقفیت نہیں ہے جو قرآن کریم کو نہ خود سمجھ سکتے ہیں اور نہ ان کو سمجھانے والا کوئی میسر ہے۔ایک تغیر عظیم مسلمانوں کی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت عرب سے مذہبی آزادی اس قدر اٹھ جائے گی کہ وہاں نیک آدمی نہیں ہو سکیں گے۔چنانچہ حضرت علیؓ سے دیلمی نے روایت کی ہے کہ ان میں نیک لوگ پوشیدہ ہو کر پھریں گے(حجج الکرامہ فی آثار القیامۃ صفحہ ۲۹۵ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ) یہ تغیر بھی اس وقت عرب میں پیدا ہے، وہاں کے لوگوں میں مذہبی رواداری بالکل باقی نہیں رہی۔اپنے خیالات اور رسوم کے اس قدر دلدادہ ہیں کہ خدا اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی جان ان سے محفوظ نہیں ہے۔گو یہ آفت دیگر اسلامی ممالک میں بھی نمو دار ہے ،مگر عرب پر بالخصوص افسوس ہے کہ وہاں فریضہ حج ادا کرنے کے لئے ہر ایک ذی مقدرت انسان کو بحکم الہی جانا پڑتا ہے۔