دعوت الامیر — Page 36
(y) دعوة الامير فرمائے گا تا کہ وہ بگڑے ہوؤں کی اصلاح کریں اور گمشدوں کو واپس لائیں اور اُن لوگوں کا کام آپ ہی کا کام ہوگا کیونکہ شاگرد اپنے استاد سے علیحدہ نہیں ہوسکتا اور امتی اپنے نبی سے جدا انہیں قرار دیا جا سکتا، ان کی گردنیں آپ کے احسان کے آگے جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے دل آپ کی محبت کی شراب سے لبریز ہوں گے اور ان کے سر آپ کے عشق کے نشے سے سرشار ہوں گے۔غرض کسی نبی کے دوبارہ آنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے اور اس سے آپ کا وہ درجہ باطل ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُمَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُ وا مَا بِأَنْفُسَهُمْ (الرعد: ۱۲) اللہ تعالیٰ کسی کو کوئی نعمت دیکر چھین نہیں لیا کرتا جب تک کہ خود ان کے اندر کوئی خرابی نہ پیدا ہو جائے۔اب اس عقیدے کو مان کر یا تو نعوذباللہ یہ ماننا پڑ تا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہے یا پھر یہ ماننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ توڑ دیا اور باقی لوگوں سے تو وہ یہ سلوک کرتا ہے کہ ان کو نعمت دے کر واپس نہیں لیتا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے اس کے خلاف سلوک کیا ہے اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں کیونکہ ایک میں خدا تعالیٰ کا انکار ہے اور دوسری میں اس کے رسول کا۔پس ان وجوہ سے ہم اس قسم کے عقائد سے بیزار ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام جن کی آمد کا وعدہ دیا گیا ہے اسی امت میں سے آنے والے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے کسی مقام پر ممتاز کر دے۔احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنے والا مسیح اسی امت میں سے ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَا الْمَهْدِئُ إِلَّا عِيسَی (ابن ماجه کتاب الفتن باب شدة الزمان مطبوعه بيروت ۱۹۸۸ ء) سوائے عیسی کے اور کوئی