دعوت الامیر — Page 361
۳۶۱ دعوة الامير اسلام کے کام کو اپنا کام سمجھتے تھے اگر کوئی دوسرا شخص اسلام کی خدمت کرتا تو اس کے نہایت ہی ممنون ہوتے۔بعض اوقات اکثر حصہ رات کا متواتر جاگتے اور کام میں مشغول رہتے اگر کوئی دوسرا شخص ایک دودن پروف ریڈری یا کا پیاں دینے کے کام میں آپ کی مدد کرتا تو اسے اتفاقاً کسی دن رات کو بھی کام کرنا پڑتا تو یہ نہ سمجھتے تھے کہ اس نے اسلام کا کام کیا اور اپنے فرض کو انجام دیا ہے بلکہ اس قدر شکر و امتنان کا اظہار کرتے کہ گویا اُس نے آپ کی کوئی ذاتی خدمت کی ہے اور آپ کو اپنا ممنونِ احسان بنالیا ہے۔باوجود ضعف اور بیماری کے اسی سے یادہ کتب آپ نے تصنیف کیں اور سینکڑوں اشتہار اسلام کی اشاعت کے لیے لکھے اور سینکڑوں تقریریں کیں اور روزانہ لوگوں کو اسلام کی خوبیوں کے متعلق تعلیم دیتے رہے اور آپ کو اس میں اس قدر انہماک تھا کہ بعض دفعہ اطباء آپ کو آرام کے لیے کہتے تو آپ ان کو جواب دیتے کہ میرا آرام تو یہی ہے کہ دین اسلام کی اشاعت اور مخالفین اسلام کی سرکوبی کرتا رہوں حتی کہ آپ اپنی وفات کے دن تک خدمتِ اسلام میں لگے رہے اور جس صبح آپ فوت ہوئے ہیں اس کی پہلی شام تک ایک کتاب کی تصنیف میں جو ہندوؤں کو دعوتِ اسلام دینے کی غرض سے تھی مشغول تھے۔اس سے اس سوز و گداز اور اس اخلاص و جوش کا پتہ لگ سکتا ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کے جلال کے اظہار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے اثبات کے لیے تھا۔میں لکھ چکا ہوں کہ صرف محبت کا دعوئی محبت کا پتہ لگانے کے لیے حقیقی معیار نہیں ہے مگر وہ شخص جس نے اپنے ہر ایک عمل اور ہر ایک حرکت سے اپنے عشق ومحبت کو ثابت کر دیا ہو اُس کا دعویٰ اس کے دلی جذبات کے اظہار کا نہایت اعلیٰ ذریعہ ہے۔کیونکہ بچے عاشق کے دلی جذبات اس کی غیر معمولی خدمات سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں اور بوجہ اس کے