دعوت الامیر — Page 20
دعوة الامير ہو کر جا پڑیں اور دشمن نے خوشی کے نعرے لگائے کہ ہم نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کر دیا ہے لیکن مسیح علیہ السلام کے متعلق اسے یہ بات پسند نہ آئی کہ ان کو کوئی تکلیف ہو اور جونہی کہ یہود نے آپ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اس نے آپ کو آسمان کی طرف اٹھالیا اور آپ کی جگہ آپ کے کسی دشمن کو آپ کی شکل میں بدل کر صلیب پر لٹکوا دیا۔ہم حیران ہیں کہ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کی عزت پر حملہ کرتے ہیں اور اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ جو لوگ آپ کی محبت سے مجبور ہو کر آپ پر کسی کو فضیلت دینے سے انکار کر دیتے ہیں ان کو دُکھ دیتے ہیں، ان کے اس فعل کر کفر قرار دیتے ہیں، کیا کفر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے قائم کرنے کا نام ہے، کیا بے دینی آپ کے حقیقی درجے کے اقرار کا نام ہے، کیا ارتداد آپ سے محبت کو کہتے ہیں؟ اگر یہی کفر ہے، اگر یہی بے دینی ہے، اگر یہی ارتداد ہے تو خدا کی قسم ہم اس کفر کولوگوں کے ایمان سے اور اس بے دینی کولوگوں کی دینداری سے اور اس ارتداد کولوگوں کے ثبات سے ہزار درجہ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور اپنے آقا اور سردار حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہمنوا ہوکر بلاخوف ملامت اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ے از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم در ثمین فارسی صفحه ۱۱۲ مطبوعه باراول) بعد سب کو آخر ایک دن مرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونا ہے اور اسی کے ساتھ معاملہ پڑنا ہے پھر ہم لوگوں سے کیوں ڈریں؟ لوگ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرتے ہیں اور اسی سے محبت کرتے ہیں اور اس کے بعد سب سے زیادہ محبت