دعوت الامیر — Page 186
(IAY) دعوة الامير کرتے تھے حالانکہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتا وَ الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ (النَّحل: ٢١) جن آدمیوں کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں۔پھر فرماتا ہے اَمْ جَعَلُوْا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقْوْا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خَالِقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (الرعد : ۱۷) کیا وہ اللہ کے سوا شریک مقرر کرتے ہیں جن کی صفت یہ ہے کہ انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے اور اب ان لوگوں کی نظروں میں اللہ تعالیٰ کی اور ان کی مخلوق مشتبہ ہوگئی ہے کہدے کہ اللہ ہی سب چیزوں کا خالق ہے اور وہ ایک ہے ہر چیز اس کے تصرف میں ہے۔اسی طرح فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ (الحج: ۷۴) وہ لوگ کہ تم ان کو اللہ کے سوا پکارتے ہو ہر گز پیدا نہیں کر سکتے ایک مکھی بھی۔گو سب کے سب جمع ہو جائیں اور مسیح علیہ السلام بھی انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔غرض باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں یہ بات صریح طور پر موجود ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی کچھ نہیں پیدا کر سکتا اور اگر کوئی ایسا کرے تو وہ سچا معبود ہے۔اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ (آل عمران : ۵۰) کے وہ معنے کرتے ہیں جو قرآن کریم کی محکم تعلیم کے خلاف ہیں اور نہیں سوچتے کہ ایک لفظ کئی کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔پس وہ معنے کریں جو قرآن کریم کی دوسری آیات کے اور ایک بندے کی شان کے مطابق ہوں ، نہ کہ وہ معنے کریں جو محکمات کے خلاف اور اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی ہوں اور موحد کہلاتے ہوئے شرک میں مبتلاء ہوں۔یہ وہ خطرناک عقائد ہیں جو اس وقت مسلمانوں میں خواہ عالم ہو ، یا جاہل اور خواہ