دعوت الامیر — Page 110
(n۔) دعوة الامير لوگ اس کی مختلف تاویلیں کرتے ہیں۔مگر بات صاف ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ اس وقت پاک نفس انسان کا تلاش کرنا ناممکن ہو جائے گا۔اب اس امر کو دیکھ لیجئے۔مسیح موعود کے اثر کو الگ کر کے گل دنیا پر نظر ڈال جائیں نفس زکیہ کہیں نہ ملے گا۔یا تو مسلمانوں میں ایک ایک وقت میں لاکھوں باخدا انسان ہوتے تھے یا اس ضرورت و مصیبت کے وقت ایک اہل اللہ کا ملنا ناممکن ہے۔بیشک بڑے بڑے سجادہ نشین اور علماء اور مشائخ اور متصوف موجود ہیں جن کے ہزاروں لاکھوں مرید ہیں لیکن نفس زکیہ کوئی نہیں ، ان میں سے ایک کا بھی خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں۔اپنی طرف سے ورد اور وظائف کرنے تو پاکیزگی کی علامت نہیں ہیں۔پاکیزگی کی تو یہ علامت ہے کہ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کر لیں اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے اپنی محبت کا اظہار کرے اور اپنی غیرت کو ان کے لئے جوش میں لائے اور ان کی نیتوں اور ارادوں کو پورا کرے اور اپنے کلام کے اسرار ان پر کھولے اور عرفان کا دریا ان کے سینے میں بہا دے اور وہ مصائب اسلام کے دور کرنے والے اور مسلمانوں کے سچے امراض دور کرنے والے ہوں مگر ایسا ایک شخص بھی ان لوگوں میں نہیں پایا جاتا جو مشائخ اور صوفیاء اور اقطاب اور ابدال اور علماء اور فضلاء کہلاتے ہیں۔پس نفس زکیہ کو آج دنیا نے مار دیا ہے اور نفس امارہ کو زندہ کر دیا ہے اور وہی ان کا مطلوب بن رہا ہے۔ایک علامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کی یہ بتائی ہے کہ اس وقت امانت اٹھ جائے گی۔(ترمذی ابواب الفتن باب ما جاء فی اشراط اساعة) چنانچہ دیلمی نے حضرت علیؓ سے روایت کی ہے کہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک اضاعت امانت بھی ہے۔(حجج الكرامة فى أثار القيامة صفحه ۲۹۹ مجموعه بهوپال ۵۱۲۰۹)