دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 397

دعوت الامیر — Page 107

(1۔2) دعوة الامير علاقوں میں جو کچھ کثرت ہوسکتی ہے اس کی مثال پہلے زمانوں میں ملنی تو کیا معنی، یہ بھی قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ پہلے زمانوں کے لوگ اس قسم کی حالت کا تصور بھی کر سکتے تھے۔ایک تغیر اس زمانے کی اخلاقی حالت کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت شراب کا استعمال بہت بڑھ جائے گا۔چنانچہ انس بن مالک سے مسلم میں روایت ہے کہ اشراط ساعت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ يُشْرَبُ الْخَمْرُ (مسلم کتاب العلم باب رفع العلم وقبضته وظهور الجهل والفتنة في أخر الزمان ) شراب بہت پی جائے گی اور ابو نعیم نے حلیہ میں حذیفہ بن الیمان سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشراط ساعت میں سے ایک یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ اس وقت راستوں میں شراب پی جائے گی۔(حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۲۹۶ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) شراب کی جو کثرت اس زمانے میں ہے وہ کسی بیان کی محتاج نہیں۔یورپ میں شراب جس قدر پی جاتی ہے اس قدر پانی نہیں پیا جاتا۔پہلے زمانوں میں بھی لوگ شراب پیتے تھے مگر بطور عیش کے یادوا کے لیکن آج گل دنیا کے ایک بڑے حصے میں شراب بطور غذاء اور پانی کے پی جاتی ہے۔خصوصاً یہ علامت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے کہ راستوں میں شراب پی جائے گی۔یہ اس زمانے کو پہلے زمانوں سے ممتاز کر دیتی ہے۔پہلے زمانوں میں چونکہ شراب سامانِ تعیش میں سے سمجھی جاتی تھی اور اس کے مہیا کرنے کے لئے وہ کوشش نہ کی جاتی تھی جو اب کی جاتی ہے۔خاص خاص مقامات پر دکا نہیں ہوتی تھیں۔جہاں سے لوگ شراب خرید لیتے تھے ،مگر اب تو یہ حال ہے کہ شراب پانی کی جگہ استعمال ہوتی ہے اس لئے اس کا قریب قریب کے فاصلے پر سڑکوں پر مہیا کرنا