دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 397

دعوت الامیر — Page 106

دعوة الامير ہو جائیں گے کہ عورت کا مرد کے گھر پر جانا ایک اخلاقی گناہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ انسانی حریت کا ایک جز وقرار دیا جائے گا۔اور نکاح کو اس کی ذہنی غلامی کی علامت سمجھا جائے گا۔جیسا کہ آج فرانس اور امریکہ کے لاکھوں آدمیوں کا خیال ہے اور یہ بات کس کے ذہن میں آسکتی تھی کہ کسی وقت نہایت سنجیدگی سے اس پر بخشیں ہوں گی کہ نکاح ایک دقیا نوسی خیال ہے۔ہر مرد اس عورت سے جسے وہ پسند کرے تعلق قائم کر کے اولاد پیدا کر سکتا ہے اور عورت ایک قیمتی مشین سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جس سے پورا کام لے کر ملک کو فائدہ پہنچانا چاہئے ، جیسا کہ آج کل بعض سوشلسٹ حلقوں کا اور خصوصاً بالشویک حلقوں کا خیال ہے۔جب فحش کی یہ حالت ہو تو خیال کیا جا سکتا ہے کہ ولد الزناکس کثرت سے ہوں گے کیونکہ جب تک ملک میں زنا ایک عیب سمجھا جائے لوگ ایسی اولاد پیچھے چھوڑ نا پسند نہیں کرتے جسے ولد الزنا ہونے کا طعنہ دیا جائے لیکن جس سوسائٹی میں زنا کے وجود سے ہی انکار کیا جائے اور نکاح کو مذہب کی بے جا دست اندازی تصور کیا جائے اس میں ایسی اولاد سے کیا شرم ہو سکتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ایسی سوسائٹی میں ایسی اولاد کے سوا دوسری اولا دمل ہی کہاں سکتی ہے۔چنانچہ اوپر کے بیان کردہ خیالات کے لوگوں میں ایسی ہی اولاد میں پیدا کی جاتی ہیں اور اسے کچھ عیب نہیں سمجھا جاتا۔مگر ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو نکاح کو کم سے کم ایک قدیم رسم کر کے چھوڑنا نہیں چاہتے ان میں بھی اولا دالزنا کی تائید میں اس وقت اس قسم کا جوش پایا جاتا ہے کہ بڑے بڑے فلاسفران کو ملک کے لئے ایک نعمت اور ذریعہ حفاظت قرار دے رہے ہیں اور ایسی اولا دکو والدین کا وارث بنانے کی تائید میں بڑے زور سے تحریک کر رہے ہیں اور بصورت دیگر حکومت کو انہیں اپنا بچہ تصور کر کے ان کی خاص غور و پرداخت کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔جب حالات یہ ہوں تو اولا دالزنا کی ان