دعوت الی اللہ

by Other Authors

Page 24 of 27

دعوت الی اللہ — Page 24

خدشات کی نفی کر دی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو قرآن کریم کی عملی تصویر ہیں نے دعوت کے تمام مراحل میں میر امن دعوت کو اپنا مقصد بنائے رکھا۔آپ کی پوری زندگی میں ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا جسی جبر و اکراہ ثابت کیا جائے۔قبول حق ایک اختیاری معاملہ ہے اور اسلام ان کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :- وَقُلِ الْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوهُ مِن وَ مَن شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف: ۲۹) یعنی اسے رسول ! تو کہہ دے کہ حق تمہار سے پروردگار کی طرف سے ہے تو جو چاہے قبول کر لے اور جو چاہے انکار کر ہے۔قرآن حکیم میں دعوت دین حق میں انبیاء کرام کی مساعی کو متعین کیا گیا ہے۔اور ان حدود کو بیان کیا گیا ہے جہاں پر اُنہیں رُک جانا چاہیئے۔فرمایا :- إِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا البَلغُ الْمُبِين - (مائده : ٩٢) یعنی ہمارے رسول پہ تو صرف اس قدر فرض ہے کہ وہ ہمارہ سے پیغام کو کھول کر پہنچا دے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے اعراض سے غمگین ہوتے تھے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا :- إنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (الغاشیه : ۲۲) یعنی۔اسے پیغمبر! آپ تو نصیحت کرنے والے ہیں۔آپ کو ان پر دروغہ بنا کر نہیں بھیجا گیا۔