دعوت الی اللہ

by Other Authors

Page 20 of 27

دعوت الی اللہ — Page 20

۲۳ نوعیت محض مناظرانہ اور عقلی کشتی اور ذہنی دنگل کی نہ ہو۔اس میں کچھ بحثی اور الزام تراشی اور چوٹیں اور پھبتیاں نہ ہوں۔اس کا مقصود فریق مخالف کو چپ کرا دیا اور اپنی زبان آوری کے ڈنکے بجا دینا نہ ہو بلکہ اس میں شیریں کلامی ہو۔اعلیٰ درجہ کا شریفیانہ اخلاق ہو۔معقول اور دل لگنے دلائل ہوں۔مخاطب کے اندر ضد اور ہٹ دھرمی پیدا نہ ہونے دی جائے۔سیدھے سیدھے طریق سے اس کو بات سمجھانے کی کوشش کی جائے۔اور جب محسوس ہو کہ وہ کچھ بحثی پر اتر آیا ہے تو اُسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ گمراہی میں اور زیادہ دور نہ نکل جائے۔مجادلہ در حقیقت نام ہے اس بات کا کہ اپنی بات منوانے کے لئے مخاطب پر محبت، اعتماد حسن اخلاق اور حسن استدلال سے گھیر سے ڈالے جائیں۔یہاں تک کہ وہ داعی کی دلسوزی اس کی بے لوثی اور اس کے اخلاص سے متاثر ہو کہ اس کی بات کی صداقت پر غور کرنے اور اس کو تسلیم کر نے پر آمادہ ہو جائے۔4 - عملی نمونہ :- میں عملی نمونہ کی اہمیت کا اندازہ قرآن کریم کی درج ذیل آیات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔فرمایا :- وَ مَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَى إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔رحم سجده : ۳۴) ترجمہ : یعنی۔اس شخص سے زیادہ حسین کلام کس کا ہو سکتا ہے جو لوگوں کو خدا تعالی کی طرف دعوت دیتا ہے اور خود بھی اعمال صالحہ بجالاتا ہے اور پہلے خود وہ احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم