دعوت الی اللہ — Page 19
۲۱ اُٹھایا اور فرمایا ! " اب بتاؤ تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا ، اس آدمی نے کپکپاتے ہوئے کہا۔آپ ہی مجھ پر رحم فرمائیں اپنے نے مسکراتے ہوئے اُسے معاف کر دیا۔پس یہی وہ ہمدردی و دلسوزی ہے جب سے بدترین مخالف بھی بالآخر حق کی طرف کھینچا چلا آتا ہے۔۴ - عقلی استدلال : حکمت دعوت کا تقاضا ہے کہ مخاطب کو غور و نکہ کی دعوت دی جائے۔اور اُسے تفکر و تدبر کی راہ پر ڈالا جائے۔عقلی دلائل اور مشاہداتی براہین کے ذریعہ دعوت حق کو مؤثر بنایا جائے۔مذا ہب عالم کی تاریخ میں نبوت محمدیہ ایک منفر در بانی آواز ہے جس نے حاکمانہ اور آمرانہ اندانہ اختیار کرنے کی بجائے عقل انسانی کو مخاطب کیا۔غور و فکر کی دعوت دی اور فہم و تدتبہ کا مطالبہ کیا۔قرآن پاک میں عقلی استدلال کی شاندار مثالیں جابجا بکھری پڑی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَ يَحْيِي مَنْ حَتَّ من بَيِّنَةٍ وَانَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمه (الانفال: ۴۲) ترجمہ :۔تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل سے جئے۔اور اللہ تعالٰی خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔مجادلہ حسنہ -:- مجادلہ سے مراد دلائل کا باہمی رد و بدل ہے جس سے مخاطب کو مطمئن کرنے کے لئے اس کے دلائل کا جواب دیا جاتا ہے۔اور ایسا مثبت استدلال کیا جاتا ہے جو فریق ثانی کو قبول حق پر آمادہ کر سکے۔اس کی