دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 19

ایک دن یوں ہوا کہ ہم دونوں مسلمانوں کی موجودہ حالت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ کیسے تمام قومیں ان مسلمانوں پر ٹوٹی پڑتی ہیں اور مسلمان کس طرح حقیقی اسلام کی روح سے دُور جا پڑے ہیں۔انہی باتوں کے دوران اس نے اچانک مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نہ ہوتے تو میں ضرور کہتا کہ یہ زمانہ ایک نبی کے ظہور کا زمانہ ہے جس میں لوگوں کی اصلاح اور رجوع الی اللہ اور ان کی تعلیم و تزکیہ ایک نبی کے وجود کے سوا ممکن نہیں ہے۔لیکن خاتم النبیین کے بعد ایسا ہونا محال ہے۔اس کی یہ بات سن کر میں سمجھ گیا کہ اس کے ذہن میں خاتم النبیین کا غلط مفہوم اٹکا ہوا ہے جس کی تصحیح کے بعد اس کے لئے قبول احمدیت کا راستہ آسان ہو جائے گا۔یوں مجھے اس کے ساتھ بات شروع کرنے کا ایک اچھا موقع میسر آ گیا۔موضوع مل گیا۔چنانچہ میں نے اسے کہا کہ یہ بات جو آپ نے کہی ہے یہ فطرت صحیحہ کی آواز ہے۔یقیناً اس زمانے میں نبی کی ضرورت ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالٰی اس عظیم امت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتنوں اور جہالت کی وادیوں میں بھٹکتا چھوڑ دے اور کوئی دعا نہ سنے اور کسی کو اس کی ہدایت یابی کے لئے نہ بھیجے۔ہر گز نہیں۔چنانچہ میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں۔انہوں نے اپنے دوست کو کہا کہ میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ارسال فرما دیا ہے جس کا ہر سلیم الفطرت انتظار کر رہا ہے۔اس رحیم و کریم خدا نے امام مہدی علیہ السلام کو بھیج دیا ہے تا کہ اس امت کو پستیوں سے نکال کر خدا تعالیٰ کی رضا کے بلند درجات تک پہنچا دے۔اس پر میرے دوست نے کہا ہمیں تو یہی مولویوں نے پڑھایا ہے کہ امام مہدی تو نبی نہیں ہے۔بلکہ وہ مسلمانوں کے مولویوں میں سے ایک مولوی ہو گا اور روایت میں تو آتا ہے کہ اسے تو معلوم ہی نہیں ہو گا کہ وہ امام مہدی 19