دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 18

صبر سے باہر ہو کر اس کے ساتھ آمادہ بجنگ ہو جائے۔( ملفوظات جلد 9 صفحہ 427۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی فرمایا کہ تمہاری نیکی کی یہ خصوصیات ہونی چاہئیں۔پھر یہ ہے کہ تھکنا نہیں۔دعوت الی اللہ کا کام ایک مستقل کام ہے۔سال کا ایک رابطہ کافی نہیں ہے بلکہ سارا سال توجہ کی ضرورت ہے۔اس کے لئے اگر ذاتی تعلقات وسیع کئے جائیں تو پھر ہی سارا سال تو جہ رہ سکتی ہے۔اور یہ تعلق ہی پھر نتیجہ خیز بھی ثابت ہوتا ہے۔جتنی بھی بیعتیں یہاں بھی ہو رہی ہیں اکثریت ان کی ہے جن کے ساتھ ذاتی رابطے اور ذاتی تعلقات قائم ہوئے ہوئے ہیں اور ایک عرصے تک قائم رہے اور اس کے نتیجے میں بیعتیں ہوئیں۔پس جب درد ہو تو پھر اس طرح بھر پور کوشش ہوتی ہے۔یہ ذاتی تعلقات قائم کئے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے احمدی ہیں جو خود بیعت کر کے احمدی ہوئے اور جب احمدیت قبول کی تو پھر اپنے قریبیوں اور دوستوں کو بھی حق کی طرف بلانے کے لئے ان میں ایک درد پیدا ہوا اور پھر انہوں نے ان کے لئے دعائیں بھی کیں اور کوششیں بھی کیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں کو پھل بھی لگا دیئے۔شام کے ایک دوست اپنی تبلیغ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میرا ایک ایسا دوست تھا جس کا دینی علم تو اتنا زیادہ نہ تھا پھر بھی وہ دینی اعتبار سے کسی حد تک متشد دتھا۔میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا تھا کہ مجھے کوئی ایسا طریق تبلیغ سمجھا دے جس سے یہ دوست قریب آ جائے اور سنتے ہی متنفر ہو کر دُور نہ بھاگ جائے۔مجھے یقین تھا کہ اگر اس نے میری بات غور سے سن لی اور کچھ غور و فکر کیا تو ضرور احمدیت کے دلائل کا اس پر اثر ہو جائے گا۔کہتے ہیں 18