دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 17

ہیں جبکہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ حکمت اور موعظہ حسنہ سے بات کرو۔اسی لئے کہ ان کے پاس قرآنی تعلیم کے مطابق دلیل نہیں ہے۔لیکن بہت سے لوگ ہیں جو دلیل سے قائل ہوتے ہیں وہ مولویوں کی ان سختیوں سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ہمیں تبلیغ کے مختلف طریقے بتائے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ کم فہم لوگ دین کا علم بھی نہیں رکھتے اس لئے انہیں سمجھانا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ان کو سمجھانے کے لئے بات بہت صاف اور عام فہم کرنی چاہئے۔امراء تو تکبر کی وجہ سے دین کی باتوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے اور کبھی ان سے بات کا موقع ملے تو مختصر اور پورا مطلب ادا کرنے والی بات ہو۔ہاں زیادہ تر اوسط درجے کے لوگ ہیں جو بات کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کی طبیعت میں تعلی اور تکبر اور نزاکت بھی نہیں ہوتی جو امراء کے مزاج میں ہوتی ہے۔اس لئے ان کو سمجھانا مشکل نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کو زیادہ تبلیغ کرنی چاہئے اور اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 219-218۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان) پھر تبلیغ کے لئے ایک نسخہ یہ ہے جو آپ نے فرمایا کہ اس کام کے واسطے وہ آدمی موزوں ہوں گے جو کہ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرُ (يوسف:91) کے مصداق ہوں۔ان میں تقویٰ کی خوبی بھی ہو اور صبر بھی ہو۔پاکدامن ہوں۔فسق و فجور سے بچنے والے ہوں۔معاصی سے دُور رہنے والے ہوں۔لیکن ساتھ ہی مشکلات پر صبر کرنے والے ہوں۔لوگوں کی دشنام دہی پر جوش میں نہ آئیں“۔فرمایا: ”دشمن جب گفتگو میں مقابلہ کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ ایسے جوش دلانے والے کلمات بولے جس سے فریق مخالف 17