دس دلائل ہستی باری تعالیٰ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 30

دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 17

17 جڑیں اور انسان کو ٹانگیں۔ہاں کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو کام خود بخود ہو گیا اس میں اس قدر انتظام رکھا گیا ہو۔پھر اگر انسان کے لئے پھیپھڑا بنایا تو اس کے لئے ہوا بھی پیدا کی اگر پانی پر اسکی زندگی رکھی تو سورج کے ذریعہ بادلوں کی معرفت اسے پانی پہنچایا اور اگر آنکھیں دیں تو انکے کارآمد بنانے کیلئے سورج کی روشنی بھی دی تا کہ وہ اس میں دیکھ بھی سکے کان دیئے تو ساتھ اس کے خوبصورت آواز میں بھی پیدا کیں زبان کے ساتھ ذائقہ دار چیزیں بھی عطا فرما ئیں ناک پیدا کیا تو خوشبو بھی مہیا کر دی ممکن تھا کہ اتفاق انسان میں پھیپھڑا پیدا کر دیتا لیکن اس کے لئے یہ ہوا کا سامان کیوں کر پیدا ہو گیا اور ممکن تھا کہ آنکھیں انسان کی پیدا ہو جاتیں لیکن وہ عجیب اتفاق تھا کہ جس نے کروڑوں میلوں پر جا کر ایک سورج بھی پیدا کر دیا تا کہ وہ اپنا کام کر سکیں اگر ایک طرف اتفاق نے کان پیدا کر دیئے تھے تو یہ کونسی طاقت تھی جس نے دوسری طرف آواز بھی پیدا کردی بر فانی ممالک میں مان لیا کہ کتے اور ریچھوں کو تو اتفاق نے پیدا کر دیا لیکن کیا سبب کہ ان کتوں یا ریچھوں کے بال اتنے لمبے بن گئے کہ وہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔اتفاق ہی نے ہزاروں بیماریاں پیدا کیں اتفاق ہی نے ان کے علاج بنادیئے اتفاق ہی نے بچھو بوٹی جسکے چھونے سے خارش ہونے لگ جاتی ہے پیدا کی اور اس نے اس کے ساتھ پالک کا پودا اگا دیا کہ اس کا علاج ہو جائے۔دہریوں کا اتفاق بھی عجیب ہے کہ جن چیزوں کے لئے موت تجویز کی ان کے ساتھ توالد کا سلسلہ بھی قائم کر دیا اور جن چیزوں کے ساتھ موت نہ تھی وہاں یہ سلسلہ ہی نہیں رکھا انسان اگر پیدا ہوتا اور مرتا نہیں تو کچھ سالوں میں ہی دنیا کا خاتمہ ہو جاتا اس لئے اس کے ساتھ فنالگا دی لیکن سورج اور چاند اور زمین نہ نئے پیدا ہوتے ہیں نہ اگلے فنا ہوتے ہیں۔کیا یہ انتظام کچھ کم تعجب انگیز ہے کہ زمین اور سورج میں چونکہ کشش رکھی ہے اس لئے ان کو ایک دوسرے سے اتنی دور رکھا کہ آپس میں ٹکرانہ جاویں کیا یہ باتیں اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہیں