دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 16
16 دیتا ہے کہ اتفاقی طور سے جڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اور انتظام نہیں ہوتا بلکہ بے جوڑی ہوتی ہے مختلف رنگوں سے مل کر ایک تصویر بنتی ہے لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پر پھینک دیں تو اس سے تصویر بن جائے گی۔اینٹوں سے مکان بنتا ہے لیکن کیا اینٹیں ایک دوسرے پر پھینک دینے سے مکان بن جائے گا۔بفرض محال اگر یہ مان لیا جائے کہ بعض واقعات اتفاقا بھی ہو جاتے ہیں لیکن نظام عالم کو دیکھ کر کبھی کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی ہو گیا۔مانا کہ خود بخود ہی مادہ سے زمین پیدا ہو گئی اور یہ بھی مان لیا کہ اتفاقاً ہی انسان پیدا ہو گیا لیکن انسان کی خلقت پر نظر تو کرو کہ ایسی کامل پیدائش کبھی خود بخود ہو سکتی ہے عام طور سے دنیا میں ایک صفت کی خوبی سے اسکے صناع کا پتہ لگتا ہے ایک عمدہ تصویر کو دیکھ کر فور اخیال ہوتا ہے کہ کسی بڑے مصور نے بنائی ہے ایک عدہ تحریر کو دیکھ کر سمجھا جاتا ہے کہ کسی بڑے کا تب نے لکھی ہے اور جس قدر ربط بڑھتا جائے اسی قدر اس کے بنانے یا لکھنے والے کی خوبی اور بڑائی ذہن نشین ہوتی جاتی ہے پھر کیونکر تصور کیا جاتا ہے کہ ایسی منتظم دنیا خود بخو د اور یونہی پیدا ہو گئی۔ذرا اس بات پر تو غور کرو کہ جہاں انسان میں ترقی کرنے کے قوی ہیں وہاں اسے اپنے خیالات کو عملی صورت میں لانے کیلئے عقل دی گئی ہے اور اس کا جسم بھی اس کے مطابق بنایا گیا ہے چونکہ اس کو محنت سے رزق کمانا تھا اس لئے اسے مادہ دیا کہ چل پھر کر اپنا رزق پیدا کر لے درخت کا رزق اگر زمین میں رکھا ہے تو اسے جڑیں دیں کہ وہ اسکے اندر سے اپنا پیٹ بھر لے۔اگر شیر کی خوراک گوشت رکھی تو اسے شکار مارنے کیلئے ناخن دیئے اور اگر گھوڑے اور بیل کیلئے گھاس کھا نا مقدر کیا تو انکو ایسی گردن دی جو جھک کر گھاس پکڑ سکے اور اگر اونٹ کیلئے درختوں کے پتے اور کانٹے مقرر کئے تو اسکی گردن بھی اونچی بنائی کیا یہ سب کارخانہ اتفاق سے ہوا۔کیا اتفاق نے اس بات کو معلوم کر لیا تھا کہ اونٹ کو گردن لمبی دوں اور شیر کو پنجے اور درخت کو