دس دلائل ہستی باری تعالیٰ — Page 8
8 مذاہب کیونکر ہوا اور کون تھا جس نے امریکہ کے رہنے والے باشندوں کو ہندوستان کے عقائد سے یا چین کے باشندوں کو اہل افریقہ کے عقائد سے آگاہ کیا۔پہلے زمانہ میں ریل و تار اور ڈاک کا یہ انتظام تو تھا نہیں جو اب ہے۔نہ اس طرح جہازوں کی آمد ورفت کی کثرت تھی گھوڑوں اور خچروں کی سواری تھی اور باد بانی جہاز آجکل کے دنوں کا سفر مہینوں میں کرتے تھے اور بہت سے علاقے تو اس وقت دریافت بھی نہ ہوئے تھے پھر ان میں مختلف المذاق اور مختلف الرسوم اور ایک دوسرے سے نا آشنا ممالک میں اس ایک عقیدہ پر کیونکر اتفاق ہو گیا۔من گھڑت ڈھکوسلوں میں تو دو آدمیوں کا اتفاق ہونا مشکل ہوتا ہے پھر کیا اس قدر قوموں کا اور ملکوں کا اتفاق جو آپس میں کوئی تبادلہ خیالات کا ذریعہ نہ رکھتی تھیں اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ عقیدہ ایک امر واقعہ ہے اور کسی نامعلوم ذریعہ سے جسے اسلام نے کھول دیا ہے ہر قوم پر اور ہر ملک میں اسکا اظہار کیا گیا ہے۔اہل تاریخ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جس مسئلہ پر مختلف اقوام کے مؤرخ متفق ہو جاویں اس کی راستی میں شک نہیں کرتے جب اس مسئلہ پر ہزاروں لاکھوں قوموں نے اتفاق کیا ہے تو کیوں نہ یقین کیا جائے کہ کسی جلوہ کو دیکھ کر ہی سب دنیا اس خیال کی قائل ہوئی ہے۔دلیل دوم دوسری دلیل جو قرآن شریف میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق دی ہے ان آیات سے معلوم ہوتی ہے کہ وَتِلْكَ مُجَتُنَا أَتَيْنَهَا ابْرهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَتٍ مَّنْ نَّشَاءُ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌهِ وَوَهَبْنَا لَةَ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ كُلًّا هَدَيْنَا، وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَنَ وَأَيُّوبَ وَيُوْسُفَ وَمُوسَى وَهُرُوْنَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلُّ