دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 63 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 63

63 جنت کی بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی قسم ہے اسلئے تم بھی اگر محبت کا دعوی کرتے ہو تو میری پیروی کرو، میرے پیچھے آؤ پھر تمہیں پتا لگے گا کہ محبت ہوتی کیا ہے پھر تم محبت کی حقیقت سے آشنا ہو گے اور کچی محبت کے نتیجہ میں خدا کے پیار اور محبت کی نظر میں تم پر پڑنے لگیں گی۔پس ان معنوں میں حضرت محمد مصطفی اما وسیلہ ٹھہرے۔پس جب ہم درود پر زور دیتے ہیں تو ہرگز نعوذ باللہ من ذالک اس میں کوئی شرک کا پہلو نہیں۔اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا اور کوئی کچھ نہیں۔اس کے سوا نہ محمد بیت ہے، نہ احمدیت ہے، نہ زندگی کی کسی اور حقیقت کے کوئی معنی ہیں۔تو خدا ہی ہے جو سب کچھ ہے لیکن وہ لوگ بھی بہت کچھ ہوئے جو خدا تعالیٰ سے وابستہ ہو گئے اور وہ لوگ بھی بہت کچھ ہوئے جنہوں نے خدا تعالیٰ سے وابستہ ہونا شروع کر دیا۔پس اس پہلو سے وسیلے کی حقیقت کو سمجھیں تو ہم سب آج اپنے رب سے وابستہ ہورہے ہیں اور ہوتے چلے جارہے ہیں۔لازماً ہم سب آنحضرت ﷺ کے عظیم احسانات کے صلى الله نیچے دبے پڑے ہیں۔اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم احسانات کا بدلہ اتار سکیں۔پس قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ کہ کیا احسان کی جزاء احسان کے سوا بھی کچھ ہو سکتی ہے؟ پس یہ بھی حضرت محمد مصطفی ملالہ کے احسانوں میں سے ایک احسان ہے اور عظیم احسان ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تمہارے دل میں بھی تمنا ہوتی ہوگی کہ مجھے تھے دو۔میرے لئے کچھ کرو تو درود پڑھا کرو۔خدا کی حمد کے بعد درود پڑھا کرو اور اس کے نتیجے میں بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم کچھ احسان اتار رہے ہیں مگر طاقتور سے لڑائی نہیں ہو سکتی ناممکن ہے محسن اعظم کے احسان سے فیضیاب ہونے والے اس سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ایک طرف بظاہر ہمارے دل کو تسکین دینے کے سامان پیدا کئے کہ تم بھی مجھ پر کثرت سے درود بھیجو۔کچھ تمہیں بھی تو لطف آئے کہ تم نے میرے لئے کچھ کیا اور ساتھ فرمایا کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری دعائیں مقبول ہوں گی۔یہ سارے درود خدا تعالیٰ تم پر لوٹا دے گا اور آسمان سے یہ درود برکتیں اور رحمتیں بن کر تم پر نازل ہوا کرے گا۔تو کیسا احسان اتارا؟ ایک ذرہ بھی نہیں۔احسان اتارنے کی کوشش میں اور احسانوں تلے ہم دیتے چلے جاتے ہیں اور دبتے چلے جائیں گے۔