دورۂ قادیان 1991ء — Page 260
260 حلقہ احمدیہ اجلاس ہیں۔خو خدا اور اس کی مخلوق سے محبت کرتے ہیں۔حضرت مرزا نے کہا کہ گذشتہ دنوں بہار میں فسادات ہوئے۔ہندو بھی اجڑے اور مسلمان بھی۔حالات کا جائزہ لینے کے بعد مظاہوم لوگوں کی امداد کے لئے رقم منظور کی گئی۔جو ہندو ہیں اور مسلمانوں کو بلا امتیاز تقسیم کی گئی تھی۔مراہ صاحب نے فسادات کی ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ میلہ یوں نے تجویز رکھی کہ وہ طاہر آباد بنانا چاہتے ہیں۔تو انہیں کہا گیا کہ وہ کرشن نگر بھی بنائیں۔چنانچہ اس تجویدی محمل ہوا۔ظاہر آباد بھی دینا اور کرشن مگر بھی۔انسانی خدمت کا تذکرہ کرتے ہوئے خلیفہ موصوف نے کہا کہ انسانوں کا رکھ دور کرنے کے لئے کوشش ہونی چاہئے۔اگر بھارت پاکستان اپنا د کافی خرچ کم کر کے غریبوں کی بہور کے کاموں پر خرچ کریں تو یہ سب سے بڑا وناع ہوگا۔کیونکہ تفریق ہر جگہ ہے۔اور غریب بھی ہیں۔جن کے درد کا علان ہونا چاہئے۔یہ احمدی ہے وہ غیر احمدی۔یہ ہندو ہے اور وہ سکھ عیسائی۔کوئی بھی مذہب ہو اس کا احترام کیا جائے اور اس کے پیرو کاروں کو ایک انسان خیال کرتے ہوئے ان کے دکھ درد میں شریک ہونا چا ہئے۔مذہبی طور پر کسی سے انتظام الغنا النساء کرنا گناہ ہے۔اور قرآن میں بھی کہیں نہ ہی انجام کا حکم میں ہے۔جب کبھی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو اس میں طرفین کی خوب نہیں ہیں اور بچے یتیم ہوتے ہیں ت دکھ ہوتاہے ان میں امامت سے کہا ہوں۔من مظلوموں کی تلاش کرو۔جو یہ یاد ہوئے ہیں۔اویر طالحافظ اظہ انسان کی مدد کرو۔روحانیت کی ہے کہ سب سے پہلے انسانوں کی خدمت مرزا صاحب نے فرما یا کہ سب سے بڑا نہ جب انسانیت ہے۔پہلے آدمی تو ہو پھرف سب کی بات کرو۔انسان ہوناہی بہت ہوئی بات ہے۔خیر کا جواب شرسے نہ دو۔اے لوگو! انسان بنوا اور کچھ خود محبت خلق کر لو۔اس میں نجات ہے۔خلیفہ المسیح نے عوام کو تلقین کی کہ جو لوگ رہائہ یا بوڑھے ہو گئے ہیں وہ اپنے بیکار وقت کو یونہی ضائع نہ کریں بکہ دوسرے لوگوں کی خدمت کے لئے خود کو وقف کر دیں۔اس میں ان کا کدہ ہے۔۔جلسہ گلہ میں ہندی میں لکھا ہے " ہے کہ شن رور کو پالا شمیری فرین گیت ہیں لکھی ہوتی ہے "۔کلمہ طیر - خليف المسيح یح کی ہے اور دوسرے پیٹر کئے ہوئے تب تیبا 20 فرامر کی آبادی والے کا دیاں میں اتنی ہی تعداد میں زائرین کی آمد پر ایک نیا نیاد یہاں آباد ہو گیا برای خر چ انہاں کیا گیا۔اور دو گائیں تحرید و فروخت کے لئے کھلی رہیں۔سی آر پی ایف۔اور پولیس کے جوانوں کی بہت بڑی جمعیت تعینات تھی۔سه روزه اجلاس آج الله در سر القیام باہر ہو گیا۔پاکستان کے زائرین نے خصوصی طور پر بھارت سرکار کا شکر یہ ادا کیا۔کہ انہیں کافی تعداد میں دیر با جاری کئے گئے۔اور کائیل دیں گاڑیاں بھی چلائی گئیں۔تاریاں کے بازاروں میں لاکھوں روپے کے سامان کی فریدہ فروخت ہوئی سب سے زیادہ خرید و فروخت دھار یوال کی اونی اور اس کی ہوئی۔پاکستان کے زائرین نے بڑی تعداد میں جا کر میں خرید کیس اور اس میں پسند ہو گی ظاہر کی۔انہوں نے پنجاب کے عملی نیٹوں کو مشورہ دیا کہ وہ لی ٹینسی کی تشدد آمیز سرگرمیوں کو چھوڑ کر قوام کے سامنے اپنا کیس پیش کریں۔اور نہ ہی اپنا اس کو مشورہ دیا کی جائے۔ان کے نظم کو اپنا غم اور ان کی خوشی کو اپی فریکی کیا که ده فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کام کریں۔کیونکہ جو چائے۔مذہب کی اور انسان کے درمیان بکرے کا پر پیار کرتا ہے اور وہ مذہب تذہب کہلانے کا حقدار نہیں۔اس کنویشن میں 50 سے زائد ممالک کے احمدیوں نے شرکت کی۔Пло