دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 233 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 233

233 بٹالہ سے حضرت مسیح موعود الﷺ کے اشد معاند مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے کھوج کی کوشش فاعتبروا یا اولی الابصار انہیں فلک نے یوں مٹا دیا کہ مزار تک کا پتہ نہیں“ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۹۱ء کو جب بٹالہ اسٹیشن پر ریل گاڑی رُکی تو حضور نے خاکسار (ہادی علی ) کو ارشاد فر مایا کہ کسی دن یہاں آکر مولوی محمد حسین بٹالوی کے بارہ میں پتا کیا جائے کہ ان کا کوئی جاننے والا بھی یہاں ہے کہ نہیں۔چنانچہ حضور انور کے اس خصوصی ارشاد کے مطابق خاکسار، قادیان کے مقامی دوستوں مکرم فضل الہی خان صاحب اور مکرم ملک صلاح الدین صاحب مصنف اصحاب احمد کے ہمراہ اس غرض کے ساتھ مورخہ ۲۴ دسمبر ۱۹۹۱ء کو بٹالہ گیا۔وہاں جا کر ہم نے بٹالہ میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے نئے اور پرانے باشندوں سے رابطہ کیا اور ان سب کے انٹرویوز یکارڈ کئے۔ان لوگوں میں ڈاکٹر ، تاجر، کالج کے پرنسپل، وکیل ،سرکاری ملازم اور جرنلسٹ وغیرہ شامل ہیں۔اس مہم کے نتیجہ میں یہ حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی کہ اس شہر میں ایک شخص بھی مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے نام سے آشنا نہیں اور وہ قبرستان بھی صفحہ ہستی سے نابود ہو چکا ہے جس میں وہ دفن کئے گئے تھے۔فاعتبروا، مذکورہ بالا افراد کے بیانات پرمشتمل رپورٹ جو حضرت مرہ خلیفہ امسیح الرابع کی خدمت اقدس میں پیش کی گئی۔درج ذیل ہے۔خاکسار مورخہ ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۱ء بروز منگل مکرم ملک صلاح الدین صاحب مکرم فضل الہی خان صاحب کے ہمراہ بٹالہ گیا۔۳۔ڈاکٹر سیواسنگھ صاحب (سکھ) ۱۹۲۲ء میں بٹالہ میں پیدا ہوئے۔پہلے فرنیچر کا کاروبار تھا پھر ایک لمبے عرصہ سے مطب چلا رہے ہیں۔صاحب علم دوست ہیں۔انہوں نے بٹالہ میں مسلمانوں کی مساعی کو بغور مشاہدہ کیا