دورۂ قادیان 1991ء — Page 188
188 قادیان کے پھیلاؤ کی خاطر ہم نے ایک منصوبہ بنایا ہوا ہے اس منصوبے میں جن علاقوں میں بعض آئندہ پروگرام تھے ان میں بعض لوگوں نے اپنے طور پر زمینیں لے لیں چنانچہ ان کو میں نے متنبہ کیا۔میں نے کہا یہ درست نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جماعت میں بڑا اخلاص ہے انہوں نے کہا جس قیمت پر ہم نے لی ہیں ہم حاضر ہیں آپ ہم سے واپس لے لیں یا چاہیں تو اس کے متبادل ہمیں کوئی جگہ دے دیں۔چنانچہ بعض دفعہ متبادل جگہ دے دی گئی۔بعض دفعہ اسی قیمت پر وہ زمین ان سے لے لی گئی تو خدا کے فضل سے اب تک کوئی خرابی نہیں پیدا ہوئی لیکن خرابی کے احتمالات دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔اس لئے میں ساری دنیا کی جماعتوں کو سمجھاتا ہوں کہ یہ بہت اچھا کام ہے۔وہاں جائیدادیں لینی چاہئیں لیکن نظام کے مطابق، نظام کے رستے سے اور دستور اور طریقے کے ساتھ یہ کام کریں تاکہ ساری جماعت کے مفاد کے تقاضے پورے ہوں اور انفرادی مفاد جماعتی مفاد سے ٹکرائے نہیں۔اب چونکہ وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے آخری ایک شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔اس کے بعد آج کے خطبہ کو ختم کروں گا۔وہاں کی سکھ آبادی نے جس محبت کا سلوک کیا ہے اس میں ایک خاص پہلو یہ تھا کہ اپنے مکانات پیش کئے اور بعض لوگوں کو جب یہ خبریں ملیں کہ غیر احمدی آبادی میں بھی مہمان ٹھہرائے جارہے ہیں تو بڑے ذوق شوق سے وہاں دوڑتے ہوئے آئے۔بعض لوگ رات بارہ ایک دو بجے تک ٹھہرے رہے جب تک قافلے آنہیں گئے کہ ہم اس وقت جائیں گے جب ہمارے حصے کے مہمان دو گے اور بعض ایسے خاندان جنہوں نے مہمان اپنے گھر ٹھہرائے تھے انہوں نے بعد میں ملاقاتیں کیں اور انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا سرور آیا ہے، ایسا لطف آیا ہے کہ کبھی زندگی میں ایسا مزہ نہیں آیا تھا۔ایک کمرے میں ہم سب اکٹھے ہو گئے اور سارا گھر مہمانوں کو دے دیا اور مہمانوں نے بھی ہم سے محبت کا ایسا سلوک کیا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ صدیوں کے آشنا ہوں۔بچپن سے اکٹھے رہے ہوں تو یہ جو تحریک کی تھی یہ خاص طور پر اسی نیت سے کی گئی تھی۔قادیان کو میں نے لکھا تھا کہ آپ کے پاس ساری محنتوں کے باوجود، کوششوں کے باوجود ابھی بھی مہمانوں کو ٹھہرانے کی جگہ نہیں ہے۔آپ غیر مسلموں خصوصاً سکھوں تک پہنچیں اور ان سے کہیں کہ قادیان کے مہمان ہیں۔تم بھی قادیان کے باشندے ہو اس میں حصہ لو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ دونوں طرف کے تعلقات وسیع ہوں گے اور قادیان