دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 187 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 187

187 ایک آدمی اپنی طرف سے یہ چالا کی کر رہا ہے کہ میں جلدی سے سودا کرلوں بعد میں قیمتیں بڑھ جائیں گی تو دراصل اس کی اس عجلت کے پیچھے ایک بد نیتی کارفرما ہوتی ہے۔بد نیتی یا خود غرضی کہہ لیں۔خالصہ نیکی نہیں ہوتی جائیداد خریدنے میں بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس وقت وقت ہے میں لے لوں، کل کو جب مہنگائی بڑھے گی اور لوگوں میں طلب پیدا ہوگی تو اس زمین کا ایک حصہ بیچ کر میں بہت منافع حاصل کر کے دوسرے حصہ پر اپنا مکان آسانی سے بنا سکتا ہوں۔اسے بد نیتی نہ کہیں لیکن خالص نیکی نہ رہی بلکہ کچھ اغراض نفس بھی شامل ہو گئیں اور اس کے نتیجہ میں اس نے یہ نہیں سوچا کہ اگر میں اس طرح کھلی مارکیٹ میں جا کر قیمتیں خراب کرنے لگوں تو کل کو آنے والے میرے بھائیوں کو بڑا نقصان پہنچے گا۔جماعت نے جو بڑے وسیع رقبوں کی زمینیں حاصل کرنی ہیں اور آئندہ جو ہمارے منصوبے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ جماعت کے پاس وہاں کثرت سے زمینیں ہوں تا کہ ان میں مرکزی منصوبوں پر عمل درآمد ہو سکے ، ان کو بڑا شدید نقصان پہنچے گا۔جو چیز آج ایک لاکھ روپے کی مل رہی ہے وہ دیکھتے دیکھتے ڈیڑھ لاکھ ، دولاکھ ، تین لاکھ کی ہو جائے گی تو وہی جماعتیں جو باہر سے قربانی کر رہی ہیں ان کی قیمت خرید گویا کہ 13 One Third) رہ جائے گی اور نقصان پہنچانے والے بھی وہی باہر کے لوگ ہوں گے جو ایک طرف جماعت کی معرفت چندے بھی بھیج رہے ہیں اور دوسری طرف ان چندوں کو ملیا میٹ کرنے کا بھی انتظام کر رہے ہیں۔اس لئے یہ یاد رکھیں کہ کوئی شخص براہ راست وہاں کوئی سودا نہیں کرے گا۔میں وہاں انجمن کو ہدایات دے آیا ہوں کہ جس نے سودا کرنا ہے وہ آپ کو لکھے یا مجھے لکھے اور ہم ان کی خاطر تلاش کر کے مناسب قیمتوں پر بغیر کسی منافع کے جگہ ڈھونڈ کر دیں گے۔آگے ان کا کام ہے وہ پسند کریں کہ یہ جگہ لینی ہے یا فلاں جگہ لینی ہے لیکن پورے اعتماد کے ساتھ ان کو اس نظام کے مطابق چلنا چاہئے۔ان کو اس سے زیادہ اور کیا چاہئے کہ دنیا کا ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا نظام دیانتداری کے ساتھ ان کی خدمت کے لئے تیار ہے اور ان کے اپنے آخری مفاد کا بھی یہی تقاضا ہے کہ انفرادی سودا بازیوں کی بجائے جماعت کی معرفت اپنا کام کریں اور اس کے نتیجہ میں ایک اور خطرہ سے بھی ہمیں نجات مل جائے گی کیونکہ بعض علاقے ایسے ہیں جہاں جماعت کو دلچسپی ہے کہ جماعت وہاں ضرور زمین بنائے اور انفرادی لینے والے جب وہاں ایک دواڑے بنا لیتے ہیں تو ساری سکیم تباہ ہو جاتی ہے چنانچہ ایک دو ایسے واقعات میری نظر میں آئے۔