دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 166 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 166

166 روانہ ہوئے۔جیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ اسیرانِ راہ مولیٰ ہاتھ ہلا ہلا کر بے حد خوشی سے اپنی رہائی کا اعلان کر رہے تھے۔الحمد لله ثم الحمد لله على ذلك اگلا مرحلہ سکھر سے کراچی تک کے سفر کا تھا۔مکرم سید علی احمد طارق صاحب کے پاس تو ہوائی جہاز کا واپسی کا ٹکٹ موجود تھا مگر باقی تینوں یعنی مکرم امیر جماعت سکھر،مکرم پروفیسر ناصر احد قریشی صاحب اور مکرم رفیع احمد قریشی صاحب اسیران را ہ مولیٰ کے لئے ٹکٹوں کی ضرورت تھی اور فوکر جہاز میں تین سیٹوں کا ملنا ایک مشکل امر تھا۔لیکن جب یہ سارے کام خدا تعالیٰ کی خاص تقدیر کے تحت مرحله در مرحله پایہ تکمیل کو پہنچ رہے تھے تو یہ کام بھی محض اس کے فضل سے ہو گیا اور مطلوبہ تین نمکٹیں مل گئیں اور بالآخر چار افراد کا یہ قافلہ کراچی پہنچا اور کراچی ایئر پورٹ سے جماعتی انتظام کے تحت چند لمحوں میں وہ گیسٹ ہاؤس پہنچ گئے۔محترم چوہدری احمد مختار صاحب مرحوم امیر جماعت کراچی نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور اسی وقت پیارے آقا کو فون کر کے اس خوشخبری سے آگاہ کیا۔حضور نے محترم ناصر احمد قریشی صاحب سے فون پر بات کی اور فرمایا کہ میں جب سے قادیان آیا ہوں۔آپ لوگوں کے لئے خصوصیت سے دعائیں کر رہا ہوں اور پھر 'Friday the 10th' جو قادیان میں آیا اس میں میں نے ایسی خصوصیت سے دعا کی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب یہ واپس نہیں آئے گی۔“ پھر خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر کر فرمایا۔آج کتنے دن ہوئے ہیں؟“ ناصر صاحب نے کہا حضور! چار دن فرمایا’دیکھ لیں پھر اللہ اکبر ۱۵/جنوری ۱۹۹۲ء بروز بدھ۔دہلی نماز فجر کے بعد حضور اپنی قیامگاہ میں تشریف لے گئے اور صبح ۱۰:۰۰ بجے دفتر میں تشریف لا کر اور آج کے پروگراموں کا جائزہ لیا۔پروگرام کے مطابق حضور مشن ہاؤس کے صحن میں تشریف لائے جہاں حیدرآباد ( آندھراپردیش ) کے احمدی احباب موجود تھے جن کی تعداد چالیس سے اوپر