دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 165 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 165

165 اسیروں کی رہائی محترم سید علی احمد طارق صاحب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان ،عدالت عالیہ کا حکم لے کر اگلے روز یعنی ۱۴ جنوری کو سکھر پہنچ گئے۔امیر صاحب سکھر کے ہمراہ رات ساڑھے گیارہ بجے مسرت حسین صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے گھر گئے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب چونکہ امیر صاحب کے ساتھ بے تکلفی کا تعلق رکھتے تھے۔اس لئے انہیں رات کے اس وقت میں بھی گھر پر خوش آمدید کہا اور ان کامد عامنا اور عدالت عالیہ کا حکم دیکھ کر کہا کہ صبح آجائیں جیسے آپ کہیں گے اُسی طرح کر لیں گے۔امیر صاحب نے کہا کہ یہ کام ہر حال میں ابھی کرنا ہے۔چنانچہ وہ راضی ہو گئے اور دوبارہ گھر جا کر تیار ہوکر نکلے اور اپنے دیگر دو ساتھیوں کو لیکر سنٹرل جیل گئے اور رہائی کی کارروائی مکمل کی۔وہیں رات ایک بجے وہ کہنے لگے کہ چونکہ سپرنٹنڈنٹ صاحب سے پوچھنا ضروری ہے اور وہ ٹیلیفون اٹھا نہیں رہے اس لئے آپ خودان کے پاس جائیں اور بات کریں۔ان دونوں نے مسرت صاحب کو بھی ساتھ چلنے کے لئے کہا تو وہ بھی ساتھ جانے پر راضی ہو گئے۔رات ڈیڑھ بجے ان تینوں نے گلزار احمد چنہ صاحب سپر نٹنڈنٹ سنٹرل جیل سکھر کو جا کر جگایا۔وہ انہیں دیکھ کر سخت حیران ہوئے اور پوچھا کہ اس وقت کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا، جناب ! نا صر صاحب اور رفیع صاحب کی رہائی کا حکم ہے۔آپ مہربانی فرما ئیں اور انہیں رات کے وقت ہی رہا کرا ئیں۔وہ تھوڑے سے توقف کے بعد فرمانے لگے کہ آپ ایسا کریں کہ صبح نماز فجر کے بعد آجائیں۔آپ کے آدمی تیار ہونگے۔انہوں نے کہا کہ صبح اگر یہ بات باہر نکل گئی تو ملاں لوگ آپ کے لئے پریشانی پیدا کر سکتے ہیں۔کہنے لگے آپ جائیں۔کچھ نہیں ہوگا۔صبح آپ کے آنے سے پہلے آپ کے آدمی گیٹ پر تیار ہونگے۔پھر بتایا کہ محترم آئی۔جی صاحب جیل خانہ جات سکھر میں موجود ہیں اور رات ساڑھے دس بجے میں ساری پوزیشن انہیں بتا کر آیا ہوں اور صبح انہوں نے معائنہ کے لئے آنا ہے اسلئے میری پوزیشن خراب ہوگی۔دوسرے یہ کہ جب سے جیل ٹوٹی ہے ہم نے جیل کی بیرونی دیوار پر تعین پولیس کو بہت زیادہ اختیارات دے دیئے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم قیدیوں کو نکالنے جائیں اور وہ ہم پر فائر کر دیں۔اس کے بعد طارق صاحب وغیرہ رات دو بجے کے قریب واپس لوٹ آئے اور ٹیلیفون پر مکرم امیر صاحب کراچی کو تمام کاروائی کی رپورٹ پیش کی۔نماز فجر کے بعد طارق صاحب اور امیر صاحب سنٹرل جیل کی طرف