دورۂ قادیان 1991ء — Page 191
191 ہوں اس خواہش کا اظہار وہ مجھ سے بھی کر چکے تھے اور یہ بھی بڑی خواہش تھی کہ میں جنازہ پڑھاؤں تو قادیان میں ان کی اچانک وفات سے ان کی یہ دونوں دلی خواہشات پوری ہوگئیں۔بہشتی مقبرہ میں ان کو تدفین نصیب ہوئی۔مجھے ان کی قبر پر جا کر دعا کی بھی توفیق ملی۔دوسرے ہمارے چوہدری آفتاب احمد صاحب بھی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جوانگلستان کی جماعت میں بہت معروف ہے۔خدمت دین میں پیش پیش اور سارا خاندان اور ان کی ساری اولا دہی اللہ کے فضل سے بہت ہی اخلاص رکھتی ہے اور سلسلہ کے کاموں میں پیش پیش ہے ان کی بیگم صاحبہ کی بہت خواہش تھی کہ وہ قادیان جلسہ دیکھیں۔باوجود اس کے کہ بہت ہی خطرناک بیماری تھی۔جگر بار بار کام کرنا چھوڑ دیتا تھا۔میں نے ان کو مشورہ بھی دیا کہ آپ نہ جائیں۔یہ بڑی خطرناک چیز ہے۔اس سفر کی صعوبت آپ برداشت نہیں کر سکیں گی لیکن پتہ نہیں ڈا کٹر کو کیا کہ کر اس سے اجازت لے لی کہ میں ٹھیک ٹھاک ہوں کوئی بات نہیں۔وہاں جا کر بہت زیادہ تکلیف بڑھ گئی وہاں تو خدا تعالیٰ نے فضل کیا۔جب دعا کے لئے وہ بار بار کہتی رہیں اور ڈاکٹروں نے کوشش کی۔پھر جب ہم دتی آکر دوبارہ گئے ہیں تو اس وقت وہ پاکستان کے لئے روانہ ہو چکی تھیں اور ٹھیک تھیں لیکن اب اطلاع ملی ہے کہ وہاں جا کر یہ تکلیف عود کر آئی اور ہسپتال میں داخل ہوئیں اور غالباً اپریشن ہونا تھا۔ہوا یا نہیں اللہ بہتر جانتا ہے مگر ہسپتال ہی میں وفات ہوگئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔تو آپ کے نمائندوں میں سے ایک کو خدا تعالیٰ نے قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی سعادت بخشی جلسہ دیکھنے کے بعد اور ایک کو ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی سعادت بخشی۔یہ تو ان کے لئے بھی سعادت ہے اور ساری جماعت انگلستان کے لئے بھی ہے لیکن ان کے اہل وعیال ان کے بچے بہر حال غمگین ہیں اور ان کی جدائی کا دکھ محسوس کرتے ہیں۔مرحومین کو بھی دعا میں یا درکھیں اور ان خاندانوں کو بھی دعا میں یادرکھیں۔آج کا خطبہ جاپان، ہمبرگ جرمنی اور پاکستان میں کراچی اور ماریشس میں سنا جا رہا ہے اور پورے لنڈن میں بھی یہ اس وقت مختلف جگہوں پر Relay ہو رہا ہے۔ہمارے جسوال برادران نے ماشاء اللہ یہ بہت ہی عمدہ انتظام کیا ہے اور قادیان میں بھی ان بھائیوں کو غیر معمولی خدمت کی توفیق ملی ہے۔اگر یہ ہمت نہ کرتے ، بہت ہی محنت اور کوشش سے کام نہ لیتے تو وہاں کے خطبات