دورۂ قادیان 1991ء — Page 181
181 محسوس ہوتا ہے۔Iceberg کی جو مثال میں نے دی ہے یہ عمد دی ہے کیونکہ اسمیں جو حصہ باہر دکھائی دیتا ہے بڑا خوشنما لگتا ہے اور خوشخبری کا پیغام ہوتا ہے کہ زمین کی طرح کا ایک جزیرہ سمندر کے اندر مل گیا لیکن جو ڈوبا ہوا حصہ ہے اس سے لاعلمی کے نتیجہ میں ہمیشہ حادثات ہو جاتے ہیں اور دنیا کے بڑے بڑے عظیم الشان جہاز نچلے حصوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئے تو مراد یہ ہے کہ جو مسائل گہرے ہیں اور ڈوبے ہیں ان پر اگر نظر نہ رکھی جائے تو وہ خطرناک ہو سکتے ہیں اس لئے قادیان سے تعلق رکھنے والے ان مسائل پر نظر رکھنا ہمیں ضروری ہے جو اس وقت سطح سے نیچے ہیں ان میں ایک حصہ قادیان کے درویشوں کی اقتصادی بحالی کا حصہ ہے یہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے اور دوسرا حصہ قادیان کے باشندوں میں یہ احساس کروانا ہے کہ جماعت احمدیہ کے وقار کے ساتھ تمہارے دنیاوی فوائد بھی وابستہ ہیں اور یہ وہ احساس ہے جو پہلے ہی ابھر چکا ہے۔مثلاً اس دفعہ جلسہ میں چونکہ غیر معمولی تعداد میں لوگ باہر سے تشریف لے گئے تھے اور بعض دفعہ ضرورت کے مطابق انہوں نے وہاں کی دکانوں سے چیزیں خریدیں۔بعض دفعہ قادیان کی محبت اور شوق میں کوئی تحفہ گھر لیجانے کے لئے انہوں نے وہاں سے چیزیں خریدیں تو وہاں کے تاجروں کے ایک نمائندہ نے مجھے بتایا کہ ہمارے تخمینے کے مطابق ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی شاپنگ ہوئی ہے جو قادیان جیسے قصبے کے لئے ایک بہت بڑی چیز تھی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بار بار تاجروں کے وفود آئے اور بڑی منت سماجت کے ساتھ کہا کہ آپ لوگ واپس آجائیں ساری برکتیں جماعت ہی کی ہیں۔جماعت ہی کا مرکز ہے۔آپ کے بغیر کوئی بات نہیں بنتی۔ان کی نظر روحانی رونقوں پر تو نہیں تھی ان کی تو اقتصادی فوائد پر نظر تھی۔اس پہلو سے اگر وہاں اقتصادی خدمت کے کام ہوں تو اس علاقہ پر بہت عمدہ اثر مترتب ہوگا اور جو طلب پیدا ہو چکی ہے وہ اور زیادہ بڑھے گی۔اس طلب میں صرف اقتصادی فوائد پیش نظر نہیں تھے بلکہ مقامی طور پر جو بھاری اکثریت ہے وہ سکھوں کی ہے اور سکھوں نے دل کی گہرائی سے یہ محسوس کیا ہے کہ یہ جماعت نیک جماعت ہے، نیک لوگوں کی جماعت ہے اور ان کے دل میں نیکی کی عزت اور قدر ہے اور بگڑے ہوئے حالات کی وجہ سے وہ امن چاہتے ہیں۔چنانچہ سکھوں کے بہت بڑے بڑے وفود یعنی بڑی بڑی حیثیت کے وفود جن کے پیچھے قادیان کی بہت سی آبادی تھی انہوں نے مل کر اس بات کا اظہار کیا کہ ہم۔