دورۂ قادیان 1991ء — Page 119
119 چلا جاتا ہے اور وہ مقصد ہے رضائے باری تعالیٰ کا حصول۔وہ دنیا میں جو تبدیلیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں اپنی ذات کی خاطر نہیں ، اپنی تعداد بڑھانے کے لئے نہیں ، اپنے رسوخ کو پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے۔پس ان میں سے جو بھی جس حالت میں بھی جان دیتا ہے وہ کامیاب حیثیت سے جان دیتا ہے اور اپنے مقصد کو حاصل کرتے ہوئے جان دیتا ہے کیونکہ اس کے رب کی رضا کی نگاہیں اس پر پڑ رہی ہوتی ہیں۔یہی وہ یقین کامل ہے، یہی وہ اعلیٰ درجہ کا احساس ہے جے فوز عظیم کہا جاتا ہے۔یعنی ایسی کا میابی کہ دشمن کو دکھائی دے یا نہ دے مگر ہر شخص جواس کامیابی کا مزہ چکھتا ہے اور اسمیں سے گزرتا ہے وہ کامل یقین رکھتا ہے کہ وہ کامیاب ہو گیا۔ایسا ہی ایک واقعہ ایک ایسے صحابی کے ساتھ پیش آیا جن کو جب قتل گاہ پر لے جایا گیا۔دشمن کے نرغے میں آکر بعض اور صحابہ کے ساتھ وہ بھی پکڑے گئے تھے تو جب انہیں قتل گاہ میں لیجایا گیا اور تلوار ان کی گردن پر چلنے لگی تو انہوں نے آخری فقرہ یہ کہا کہ فُرتُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ خدا کی قسم !ارب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔کیسی عجیب بات ہے۔فوز کی ایک نئی تعریف دنیا کے سامنے ابھری ہے اور یہی وہ تعریف ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔وہ فقرہ سن کر بہت سے کفار مکہ جو اس قتل میں شریک تھے ششدر رہ گئے، حیران ہوئے کہ یہ کیسا جملہ ہے۔ایک شخص جو قتل ہونے کے قریب ہے اس کی زندگی کے چند لمحے باقی ہیں وہ یہ اعلان کر رہا ہے کہ رب کعبہ کی قسم ! میں تو کامیاب ہو گیا۔یہ کیسی کامیابی ہے۔تب ان کی توجہ اسلام کی طرف پھری اور اس ایک جان نے بہت سی سعید رو میں اپنے پیچھے چھوڑ دیں۔ایک کامیابی تو ان کو وہ نصیب ہوئی کہ وہ ہمیشہ کے لئے اپنے رب کے پیارے ہوئے اور ایک کامیابی وہ نصیب ہوئی کہ اگر ایک سرگردن سے اتر اتو اور کئی سرمحمد رسول اللہ کی غلامی میں جھک گئے اور وہ جان ضائع نہیں گئی۔پس فوز کے یہ معنی ہیں جن کو جماعت احمدیہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر حصولِ مقصد ہم سے بہت دور دکھائی دیتا ہے تو زندگی کا ایک مقصد ایسا ہے جو ہرلمحہ ہمارے ساتھ ہے اور وہ رضائے باری تعالیٰ کا حصول ہے۔اگر ہم خود اپنے نفس میں مطمئن ہو جائیں کہ ہمیں رضائے باری تعالیٰ حاصل ہو رہی ہے ، ہم پر اس کے پیار کی نگاہیں پڑ رہی